پروفیسر الفرید ظفر 289

کورونا کے دوران شعبہ پلمونالوجی کی ذمہ داریوں میں زیادہ اضافہ ہوا:پروفیسر الفرید ظفر

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کوڈ 19کے دوران پلمونالوجی کے معالجین کی ذمہ داریوں میں اضافے سے اس شعبے کی اہمیت زیادہ اجاگر ہو کر سامنے آئی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس نے مریضوں کے پھیپھڑوں و نظام تنفس کو زیادہ متاثر کیا لیکن لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز نے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو ایک چیلنج اور دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ پوری کر کے سینکڑوں مریضوں کی جانیں بچائیں اور اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ینگ ڈاکٹرز کو شعبہ پلمونالوجی میں خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ مریضوں کی بر وقت تشخیص و علاج سے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی او پی ڈی کے عالمی دن کے موقع پر لاہور جنرل ہسپتال شعبہ پلمونالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی واک کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شرکاء نے مرض کی علامات،بچاؤ،احتیاطی تدابیر اور انسانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق پمفلٹس اٹھا رکھے تھے۔آگاہی واک میں ڈاکٹرز،نرسز، سٹوڈنٹس، پیرامیڈکس سمیت ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پلمونالوجی ڈاکٹر جاوید مگسی،ایم ایس ڈاکٹر عامر غفور مفتی،ڈاکٹر عرفان ملک، ڈاکٹر ہما سمیت دیگر سینئر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ طبی ماہرین نے مرض کی علامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طویل عرصے تک کھانسی،بلغم میں خون آنا،جسمانی ورزش کے دوران سانس کا پھولنا و سانس لینے میں دشواری،جسمانی طاقت اور سرگرمیوں میں کمی آنا و دیگر عوامل شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پھیپھڑوں میں دائمی رکاوٹ کے مرض سی او پی ڈی کے لئے فی الحال کوئی علاج نہیں لیکن ابتدا میں ہی تشخیص و ادویات سے عارضے میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور تمباکونوشی چھوڑنا بھی مرض کی روک تھا م میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔پروفیسر الفریدظفر نے کہا کہ نظام تنفس،پھیپھڑوں کی بیماریاں بچوں اور ضعیف العمر افراد کی جانوں کے لئے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں ان سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے تاہم فضائی آلودگی (سموگ) ان بیماریوں میں تیزی سے اضافے کا باعث بن رہی ہے جس کی وجہ سے سی او پی ڈی کے مرض میں مبتلا افراد کے لئے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے جن کا تدارک کرنا لازمی ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں ڈاکٹروں کو اپنا نالج اپ ڈیٹ رکھنا اور ریسرچ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔

میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر الفرید ظفرکا کہنا تھا کہ نظام تنفس،پھیپھڑوں اور اس سے متعلقہ بیماریوں کی وجوہات میں تمباکو نوشی،الکوحل کا استعمال، فیکٹریوں اور بھٹوں کا دھواں شامل ہے اور ان عادات و پیشوں سے وابستہ افراد ان بیماریوں سے زیادہ تعداد میں متاثر ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ موسم کی تبدیلی اور فضائی آلودگی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور عالمی سطح پر بہت سے ترقی یافتہ شہر بھی فضائی آلودگی کی زد میں ہیں جن میں پاکستان کی گنجان آبادی والے شہر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائی جائے تاکہ شہری اس خطرناک بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ سانس اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلاافراد جن کی قوت مدافعت کمزورہوتی ہے کورونا اورڈینگی کا بھی آسانی سے شکاربنتے ہیں اور انہیں نمونیا، چیسٹ کی جکڑن آسانی سے ہو جاتی ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں میں ضعیف العمر اور ایسے افرا د کی تعداد زیادہ دیکھنے میں آئی ہے جو پہلے سے سی او پی ڈی،نظام تنفس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تھے اور وہ سگریٹ و شراب نوشی کے عادی بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اوریورپ میں ہلاکتوں کی بڑی وجہ مذکورہ عادات کا شامل ہوناتھا۔

پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنے کیلئے سگریٹ نوشی سے اجتناب،کھلی فضاء میں صبح و شا م سیرکرنا،بازاروں میں جانے کے لئے ماسک کا استعمال اور ضرورت کے مطابق گرم مشروبات سے جسمانی قوت مدافعت کو بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بزرگوں اور بچوں کی زیادہ سے زیادہ خصوصی نگہداشت کی جائے تاکہ نمونیا، بخار اور سینے کی جکڑن سے محفوظ رہ سکیں۔ڈاکٹر جاوید مگسی اور ڈاکٹر عرفان ملک نے کہا کہ تمام بیماریوں کی طرح نظام تنفس کے مریضوں کے لئے بھی لاہور جنرل ہسپتال میں تشخیص و علاج کی جدید سہولیات موجود ہیں اور پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق تمام شہریوں کو یہ سہولیات مفت فراہم کررہے ہیں لہذا اس مرض میں مبتلا مریض کسی سفارش کے بغیر شعبہ پلمونالوجی کے ڈاکٹرز سے رجوع کرسکتے ہیں۔واک کے اختتام پر شرکاء میں حفاظتی تدابیر پر مبنی پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر پروفیسر محمد معین، پروفیسر طاہر صدیق، ڈاکٹر اسرار الحق طور، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹرجعفر شاہ و دیگر بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں