لاہور،09مئی(زاہد انجم ڈیسک) پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ لیبارٹری پروفیشنلز آج کے جدید نظامِ صحت کے خاموش معمار ہیں جو درست اور بروقت تشخیص کے ذریعے مریضوں کی جانوں کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔وہ پی جی ایم آئی/لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ پیتھالوجی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ”لیب ویک 2026” کی تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، پروفیسر آف پیتھالوجی ڈاکٹر نازش ثقلین، پروفیسر ڈاکٹر فرحان رشید، ڈاکٹر عبدالعزیز، فیکلٹی ممبران اور ہیلتھ پروفیشنلز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ جدید طب میں کسی معالج کا فیصلہ لیبارٹری کے نتائج کے بغیر نامکمل ہے۔ پیتھالوجسٹس اور لیب سٹاف کی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور مسلسل محنت ہی مریض کے علاج کی درست سمت متعین کرتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ شعبہ پیتھالوجی کو عالمی معیار کے مطابق مزید بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے۔
جدید ترین آلات کی فراہمی، لیب سٹاف کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور تشخیصی خدمات میں معیار میں بہتری ان کی ترجیحات میں شامل ہیں تاکہ مریضوں کو فوری، درست اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ لیبارٹری شعبہ ہسپتال کی کارکردگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ایسے ایونٹس نہ صرف اسٹاف کا مورال بلند کرتے ہیں بلکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔
ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پیتھالوجی نے پرنسپل کو بریفنگ میں بتایا کہ سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 2,380,647 لیبارٹری ٹیسٹ کئے گئے۔ ان میں سے 714,194 ٹیسٹ ایمرجنسی لیب میں کیے گئے، جن کے ذریعے مریضوں کو فوری تشخیصی سہولت فراہم کی گئی تاکہ ان کا بروقت علاج شروع ہو سکے۔
تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی دکھانے والے لیب اسٹاف کو اعزازی بیجز سے نوازا گیا۔ ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے کیک کاٹا گیا۔پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے پروفیسر آف پیتھالوجی ڈاکٹر نازش ثقلین، پروفیسر ڈاکٹر فرحان رشید کی کارکردگی پر اظہار اطمئنان کیا اور انہیں شاباش دی۔









