لاہور (رپورٹنگ آن لائن) میو ہسپتال لاہور میں ٹوکن پرچی ملنے کے باوجود ہزاروں مریضوں کا علاج مکمل نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا، جس پر عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ نے سنگین سوالات اٹھا دیئے ۔میو ہسپتال لاہور میں سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے پیش کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق 9اپریل کو 6085ٹوکن جاری کیے گئے تاہم صرف 3639مریضوں کا چیک اپ سسٹم میں درج ہو سکا، اسی طرح 10اپریل کو 4094ٹوکن جاری ہوئے مگر 1772مریضوں کا ڈیٹا سسٹم میں اِن پراسس ہی رہا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 40فیصد سے زائد مریضوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں درج نہ ہونا سروس ڈیلیوری پر بڑا سوالیہ نشان ہے، او پی ڈی میں 144 سے 154ڈاکٹروں کی تعیناتی کے باوجود مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔64فیصد مریضوں کو ادویات نہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا، 9اپریل کو چیک ہونے والے 3639مریضوں میں سے صرف 2664کو ادویات تجویز کی گئیں، تجویز کردہ ادویات میں سے بھی صرف 63فیصد مریضوں کو جزوی یا مکمل ادویات مل سکیں جبکہ بقیہ 37فیصد مریض ادویات کے حصول کے لیے فارمیسی کے چکر لگاتے رہے لیکن خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق سسٹم میں بروقت انٹری نہ ہونے کے باعث ادویات کی فراہمی کا عمل شدید متاثر ہو رہا ہے، سرجیکل او پی ڈی میں صرف دو کمپیوٹرز ہونے کے باعث ڈاکٹرز تھرمل سلپس کے پیچھے نسخے لکھنے پر مجبور ہیں جبکہ موبائل فونز کے ذریعے نسخوں کی تصاویر لے کر بعد میں ڈیٹا انٹری کرنا قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔مزید انکشاف ہوا کہ ڈیٹا بروقت درج نہ ہونے سے لیبارٹری اور ریڈیالوجی کے امور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بجلی بریک ڈائون کی صورت میں یو پی ایس بیک اپ صرف 3سے 4منٹ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ تمام کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کو اپنی آئی ڈی کے ذریعے خود مریضوں کا ڈیٹا سسٹم میں درج کرنے کا پابند بنایا جائے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فارمیسی اور او پی ڈی میں کمپیوٹرز کی تعداد فوری طور پر بڑھائی جائے اور عملے کی باقاعدہ تربیت یقینی بنائی جائے۔ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ریحان سعید، ڈپٹی ڈائریکٹر عاطف مسعود اور سہیل قیصر گل نے ہسپتال کا معائنہ کیا جبکہ رپورٹ سیکریٹری ہیلتھ پنجاب کو اصلاحات اور مزید کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہے۔









