شرجیل انعام میمن 31

پنکی زہر بیچتی تھی، ہم نے منشیات کو سنجیدگی سے نہیں لیا: شرجیل میمن

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی زہر بیچتی تھی، ان کا پورا نیٹ ورک ہے، بدقسمتی سے ہم نے منشیات کو سنجیدہ نہیں لیا۔

شرجیل انعام میمن نے بی آر ٹی ریڈ لائن کا دورہ کیا جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے سیاست اور تنقید کرنی ہے وہ کریں، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے، کراچی میں جدید طرز کے اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتالوں، جامعات اور عوامی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

منشیات فروشی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ ملزمہ انمول پنکی ایک زہر بیچنے والی خاتون تھی، میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا مگر یہ پورا ایک نیٹ ورک ہے، بدقسمتی سے ہم نے منشیات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، میں کسی ایک حکومت کی بات نہیں کر رہا، ملک بھر کی کررہا، دنیا بھر میں منشیات ایک بڑا مسئلہ ہے۔

سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی کافی لوگوں کا اہم کاروبار بن چکا ہے، میں کسی کی پگڑی اچھالنا نہیں چاہتا ہوں، لیکن میڈیا سے گزارش ہوگی کہ اسے گلیمرائز نہ کریں کیونکہ منشیات کے استعمال سے روز قیمتی جانیں جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کئی بحالی مراکز پر کام کر رہے ہیں مگر یہ ایک چیلنج ہے، کراچی میں منشیات کے عادی ایک بچے نے گھر والوں کو گولیاں ماری تھیں، اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے، منشیات سے یہ بچے جب زومبیز بن جاتے ہیں وہ کسی کے قابو میں نہیں آتے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن کا کام دن رات چل رہا ہے، لاٹ ٹو پر ایف ڈبلیو او تیزی سے کام کر رہی ہے، 23 مئی کو شارع بھٹو کا مکمل افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بسیں چلانا آسان کام ہے، کراچی پاکستان کا سب سے مصروف شہر ہے، یہ ایک شہر نہیں ایک ملک ہے، اس لیے یہاں آبادی میں کام مشکل ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ یونیورسٹی روڈ پر رہ رہے ہیں، یونیورسٹی روڈ پر رہنے والوں کو بنیادی سہولیات سے محروم نہیں کر سکتے، کوشش ہے کہ اگست میں مکسڈ ٹریفک لین کا کام مکمل کر لیں۔

سینئر وزیر سندھ کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دے، پاکستان کی پہلی پنک بس، پنک سکوٹی سندھ حکومت نے شروع کی،کوشش ہے کہ ٹرانسپورٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں