اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی آرمی چیف کی طرف سے پاکستان مخالف بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی عالمی منظرنامے پر مسلسل سفارتی، دفاعی اور سیاسی کامیابیوں نے بھارت کو شدید بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ آج دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور اہم ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کر رہی ہے، عالمی طاقتیں خطے کے تنازعات کے حل، امن مذاکرات اور سفارتی پیش رفت کیلئے پاکستان سے رابطے کر رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت پہلے خود جنگ کا آغاز کرتا ہے اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد دنیا سے جنگ رکوانے کی منت سماجت کرتا ہے۔ انہںنے کہاکہ بھارت کے اندر سے بھی مختلف آوازیں ابھر رہی ہیں جہاں سابق آرمی چیف، آر ایس ایس قیادت اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے حلقے امن کو ترجیح دینے کی بات کر رہے ہیں۔
شیری رحمن نے کہاکہ موجودہ عالمی جنگوں کے اثرات سے بھارتی عوام بھی مہنگائی اوردیگر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے مودی سرکار کو چاہیے کہ کسی بھی جارحیت سے پہلے اپنی عوام کی امن کی خواہش کا احترام کرے۔ انہوںنے کہاکہ چند ماہ قبل آپریشن بنیان مرصوص میں بھارتی طیارے گرا کر اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی کئی بار پاکستان کی فضائی برتری اور بھارتی طیارے تباہ ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
شیری رحمن نے کہاکہ پاکستان کو مٹانے کے خواب دیکھنے والے تاریخ کے حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں، جنوبی ایشیا مزید جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔شیری رحمن نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور خطے میں استحکام کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی دھمکی آمیز زبان عالمی سفارتی اصولوں اور ذمہ دار ریاستی رویوں کے منافی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور عوام ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ بھارت کو خطے میں برتری کے خواب دیکھنے کے بجائے غربت، بے روزگاری اور ماحولیاتی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ دنیا جان چکی ہے کہ پاکستان خطے میں امن جبکہ بھارت کشیدگی کی سیاست کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ خطے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی صرف برابری، احترام اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔









