لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے جلوسوں کے لائسنسوں کے اجراء سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ چار ماہ کے اندر محرم الحرام کے جلوسوں کے لیے نئی، جامع اور واضح پالیسی تشکیل دے کر آئندہ محرم الحرام سے قبل نافذ کرے تاکہ ہر سال اس نوعیت کے تنازعات پر عدالتوں سے رجوع کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے سید مجیب علی گیلانی کی درخواست پر 13صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ محرم الحرام کے جلوسوں سے متعلق موجودہ پالیسی کئی دہائیوں پرانی ہے، جس پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ حالات، سکیورٹی تقاضوں اور آئینی حقوق کے مطابق موثر نظام وضع کیا جا سکے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت پنجاب اور محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ نئی پالیسی میں محرم الحرام کے جلوسوں کے نئے لائسنسوں کے اجرا، موجودہ لائسنسوں کی تجدید، معطلی، منسوخی اور اصل لائسنس ہولڈر کے انتقال کے بعد اختیار کیے جانے والے طریق کار کو واضح طور پر بیان کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ تاریخی جلوسوں کے لائسنس، نئے لائسنسوں اور متنازع دعوئوں سے متعلق بھی شفاف اور یکساں پالیسی مرتب کی جائے۔فیصلے میں کہا گیا کہ محرم الحرام کے جلوسوں کے نئے لائسنسوں پر مستقل پابندی عائد رکھنا مناسب نہیں اور نہ ہی کسی مرحوم شخص کے نام پر جاری لائسنس کی بحالی سے انکار قانون کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ جلوس کا لائسنس وراثتی حق نہیں، تاہم لائسنس ہولڈر کی وفات سے متعلقہ افراد کے مذہبی حقوق ختم نہیں ہو جاتے، اس لیے حکومت ایسے معاملات کے لیے واضح قانونی طریقہ کار وضع کرے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ محرم الحرام کے جلوس عام عوامی اجتماعات نہیں بلکہ آئین پاکستان کے تحت مذہبی آزادی سے جڑے معاملات ہیں لہٰذا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مذہبی آزادی اور امن و امان کے تقاضوں کے درمیان متوازن، منصفانہ اور قابلِ عمل نظام تشکیل دے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ ہر سال محرم الحرام سے قبل جلوسوں کے لائسنسوں کے تنازعات عدالتوں میں لانے کی روایت ختم ہونی چاہیے اور حکومت بروقت ایسی پالیسی نافذ کرے جو تمام متعلقہ معاملات کو قانون کے مطابق حل کرنے میں معاون ثابت ہو۔عدالت نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ چار ماہ کے اندر نئی جامع پالیسی تیار کر کے آئندہ محرم الحرام سے پہلے اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔









