کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے ایک نجی آئل ریفائنری کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 2013 کے انکم ٹیکس آڈٹ کے لیے جاری کیے گئے نوٹس کالعدم قرار دے دیے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کے سال 2013 کے ٹیکس کا آڈٹ 2015 میں مکمل ہو چکا تھا جبکہ 2017 میں متعلقہ حکام نے ٹیکس کریڈٹ کو بھی درست قرار دیا تھا، اس کے باوجود 2021 میں دوبارہ آڈٹ شروع کرنا قانون کے منافی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایک ہی ٹیکس سال کا دوبارہ آڈٹ نہیں کیا جا سکتا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ٹیکس دہندگان صرف چھ برس تک اپنا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے پابند ہوتے ہیں، لہٰذا اس مدت کے بعد کمشنر ریکارڈ طلب نہیں کر سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ مدت گزرنے کے بعد جاری کیے گئے نوٹس اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہیں اور قانون کے تحت ٹیکس دہندہ کو حاصل قانونی تحفظ ختم نہیں کیا جا سکتا۔









