ہائیکورٹ 20

پنجاب بھر میں لاپتہ تمام خواتین کو پندرہ روز میں بازیاب کروانے کی مہلت

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں لاپتہ ہونے والی بچیوں کی بازیابی کے حوالے سے اہم احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس کو پندرہ روز میں تمام لاپتہ خواتین کو بازیاب کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چار سال قبل مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی لڑکی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی، اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب پولیس کے تمام افسران کو لاپتہ خواتین کی بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری کی جائیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق سال 2021 سے اپریل 2026 تک صوبہ بھر میں 3 ہزار 252 خواتین کے لاپتہ ہونے کے مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 1 ہزار 405 خواتین کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ 1 ہزار 853 خواتین تاحال لاپتہ ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ باقی لاپتہ خواتین کی بازیابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا، جس پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شعیب خرم نے دو ماہ کی مہلت طلب کی، اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ چھ سال پہلے آپ کے پاس وقت تھا، کیا وہ کم تھا؟ یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے۔

عدالت نے بازیاب کروائی گئی خواتین کے تحفظ کے بارے میں بھی استفسار کیا، جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ تمام بچیاں محفوظ ہیں، بعض نے پسند کی شادیاں کر لی ہیں جبکہ کچھ اپنے گھروں کو واپس جا چکی ہیں، پولیس کے مطابق تقریباً 80 فیصد لاپتہ خواتین نے پسند کی شادیاں کیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین تاحال لاپتہ ہیں، ان کے حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے، لاپتہ خواتین کے کیسز کے لیے کوئی مؤثر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام موجود ہے یا نہیں؟ جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس حوالے سے ٹیمیں ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایسے کیسز کے لیے باقاعدہ اور مؤثر میکنزم بنایا جائے تاکہ تحقیقات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔یہ سماعت سلمیٰ بی بی کی درخواست پر ہوئی، جنہوں نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں