لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ اشرافیہ کی مراعات کا سارا بوجھ بھی غریب عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے، ایسے حالات میں آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور سرکاری اخراجات میں کمی لانے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
محمد جاوید قصوری نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری ملازمین، پنشنرز، مزدوروں اور محنت کش طبقات کی آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ موجودہ حالات میں تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ ملازمین اور ریٹائرڈ افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت میں بھی نمایاں اضافہ کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔
لاکھوں خاندان دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہیں۔ حکومت اگر عوام کو حقیقی ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، حکومتی فضول خرچی کے خاتمے اور اشرافیہ کو حاصل غیر ضروری مراعات ختم کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مزید کہا کہ ٹیکسوں کا موجودہ نظام بھی عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کے باعث مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بڑے سرمایہ داروں اور بااثر طبقات کو مختلف نوعیت کی سہولتیں حاصل ہیں۔
ضروری ہے کہ ٹیکس نظام میں انصاف کو یقینی بنایا جائے اور ٹیکسوں کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کے بجائے صاحبِ حیثیت طبقات سے وصول کیا جائے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آئندہ بجٹ کو صرف اعداد و شمار کا مجموعہ بنانے کے بجائے عوامی فلاح کا حقیقی ذریعہ بنایا جائے۔ بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، تنخواہوں اور پنشن میں مناسب اضافے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ قوم مزید معاشی بوجھ برداشت کرنے کی متحمل نہیں، اس لیے بجٹ میں ایسے فیصلے کیے جائیں جو عوام کو حقیقی ریلیف اور معاشی استحکام فراہم کر سکیں۔









