میانوالی (رپورٹنگ آن لائن )صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سمارٹ لاک ڈائون کی تجاویز / افواہوں کو مسترد کر دیا ہے، انھوں نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی،
بازار کھلے ہیں تو تعلیمی ادارے بھی کھلے رہنے چاہئیں، پنجاب میں سکول 5 روز ہی کھلے رہنے دیں، وفاقی حکومت سے اپیل ہے 90 فیصد بچے واک کرکے سکول جاتے ہیں، لہذا تعلیمی اداروں کو تین روز تک بند رکھنے کا فیصلہ ٹھیک نہیں ہے طلبہ اور والدین بھی اس فیصلے سے ناخوش ہیں کیونکہ اس ان کی پڑھائی کا شدید نقصان ہوتا ہے، اور سمارٹ لاکھ ڈان ان کے مفاد میں نہیں ہے،
جبکہ وفاقی حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کر دیا، کابینہ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، سرکاری گاڑیوں کے لیے پٹرول کی فراہمی میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی، یہ کمی ابتدائی طور پہ تین ماہ کے لیے کی گئی ہے، گاڑیاں خریدنے پر بھی پابندی عائد، غیر ضروری اور غیر ملکی دوروں پہ بھی تین ماہ کے لیے پابندی ہو گی،
سرکاری اجلاسوں کیلئے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت، غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر مکمل پابندی،حکومت کے فنڈز سے ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی، ناگزیر سرکاری تقریبات کیلئے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت، شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کا فیصلہ، دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے،
شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے، ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے؛ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنی، فارمیسیز، اسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس اور دیگر ضروری شعبے اوقاتِ کار کی پابندی سے مستثنی ہو گے۔








