سینیٹ رضا ربانی 32

مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری 18ویں کے خاتمے کے مترادف ہوگی، رضا ربانی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین میں مجوزہ ترامیم اگر منظور کرلی گئیں تو یہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے مترادف ہوں گی۔

رضا ربانی نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی خودمختاری سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم دراصل 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔2010 میں منظور کردہ 18ویں ترمیم نے صوبوں کے خدشات دور کرتے ہوئے کئی وفاقی وزارتیں اور محکمے صوبوں کو منتقل کر دیے تھے، جن میں تعلیم اور آبادی کے محکمے بھی شامل تھے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ نازک سیاسی حالات میں صوبائی خودمختاری سے چھیڑ چھاڑ وفاق پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

رضا ربانی نے کہاکہ 18ویں ترمیم نے شدت پسند قوم پرستوں کو سیاسی بحث سے باہر کر دیا تھا، اور مجوزہ تبدیلیاں انہیں دوبارہ غیر آئینی سرگرمیوں کی طرف راغب کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کو واپس لینا وفاقی حکومت کے لیے مالی بوجھ بنے گا، اور مالیاتی اختیارات واپس لینا شراکتی وفاقیت کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔انہوں نے تجویز دی کہ اگر وفاقی حکومت اپنے مالی معاملات نہیں سنبھال سکتی تو صوبوں کو تمام ٹیکس جمع کرنے اور وفاقی اخراجات کو مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے پورا کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں