سندھ ہائی کورٹ 31

لیاری اسماعیل شہید پارک اراضی تنازع، سندھ ہائیکورٹ نے ملکیت سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے لیاری کے اسماعیل شہید پارک کی اراضی کے تنازع سے متعلق درخواست پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، واٹر کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ مل کر معلومات حاصل کریں اور بتائیں کہ زمین کس کی ہے۔بدھ کو سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں لیاری کے اسماعیل شہید پارک کی اراضی کے تنازعے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ٹی ایم سی لیاری پیش ہوئے۔

واٹر کارپوریشن کے وکیل نے موقف دیا کہ واٹر کارپوریشن پمپس کے ذریعے علاقے کو پانی سپلائی کرتا ہے۔ ناظر رپورٹ بھی واٹر کارپوریشن کے موقف کی تصدیق کرتی ہے۔ ٹان چیئرمین کی رپورٹ کے مطابق جگہ پر کوئی کمرشل سرگرمی نہیں ہورہی ہے۔ درخواستگزار کی جانب سے پارک کے لئے عزیر بلوچ کے نام کی تختی کے شواہد پیش کئے گئے۔ واٹر کارپوریشن کے وکیل نے موقف دیا کہ عزیر بلوچ کے پارک ڈکلیئر کرنے سے جگہ پارک کی نہیں ہوجاتی۔ وکیل ٹی ایم سی لیاری جہانگیر کلہوڑو ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 40 لاکھ لوگوں کے پانی کی سپلائی کا مسئلہ ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اراضی واٹر کارپوریشن کی ہے؟ واٹر کارپوریشن کے وکیل نے موقف دیا کہ واٹر کارپوریشن کے پاس ٹائٹل دستاویز نہیں ہے۔

جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارلس میں کہا کہ آپ ریکارڈ چیک کریں دستاویز ضرور موجود ہوگی۔ وکیل نے موقف دیا کہ ہمارے پاس تو ہیڈ آفس کا بھی ٹائٹل دستاویز نہیں ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ پھر تو آپ سے وہ جگہ بھی لے لینی چاہیئے۔ واٹر کارپوریشن کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار سے پوچھا جائے بغیر دستاویز کیسے دعوی کررہے کہ پارک ہے؟ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسی بات ہے تو ہم آج ہی تمام کام روک دیں گے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بتایا جائے کہ زمین کس کی ہے؟ ٹی ایم سی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اصل اراضی تو سندھ حکومت کی ملکیت ہے۔ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کے پاس ایک ایک انچ کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، واٹر کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنر مل کر معلومات حاصل کریں اور بتائیں کہ زمین کس کی ہے۔ عدالت نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں