قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی 259

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے بجلی بلز میں سرچارج لگانے کا اختیار حکومت کو دینے سے متعلق بل منظور کر لیا

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے بجلی کے بلوں میں سرچارج لگانے کا اختیار حکومت کو دینے سے متعلق بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی، اپوزیشن اور حکومت کی اتحادی جماعت جی ڈی اے کی جانب سے بل کی شدید مخالفت کی گئی،اپوزیشن ارکان نے کہا کہ آج مہنگائی ریکارڈ پرہے، یہ عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا،مرغی کا گوشت پانچ سو سے تجاوز کرگیا ہے، بل کی ضرورت کیوں پڑی؟ جبکہ سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ شق سرچارج لگانے کا اختیار دینے کی ہے، ابھی سرچارج لگایا نہیں جارہا،وفاقی کابینہ صرف یہ فیصلہ کر سکتی ہے، وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ گردشی قرضہ سابقہ حکومتوں کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے، ہم ریکوری بہتر کرنے جارہے ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری سالک حسین کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے دوران حکومت کو سرچارج لگانے کا اختیار دینے سے متعلق بل،ریگولیشن آف جنریشن،ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبیوشن آف الیکٹرک پاور (ترمیمی)بل 2020کا جائزہ لیا گیا، سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ شق سرچارج لگانے کا اختیار دینے کی ہے ابھی سرچارج لگایا نہیں جارہا،وفاقی کابینہ صرف یہ فیصلہ کر سکتی ہے،سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سرچارج لگانے کا فیصلہ وزیراعظم نے کابینہ میں کرنا ہے، جب حکومت کے پاس سرچارج لگانے کی گنجائش ہوگی تب لگائے گی ورنہ نہیں لگائے گی،

رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ بل پر میرے تحفظات ہیں، آج مہنگائی ریکارڈ پرہے، یہ عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا،مرغی کا گوشت پانچ سو سے تجاوز کرگیا ہے، میں بل کی مخالفت کروں گی،رکن کمیٹی غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ بل کی ضرورت کیوں پڑی، بوجھ عوام پر ڈال رہے ہیں،رکن کمیٹی ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم عوام کے نمائندے عوام کے مفاد کے لیئے بیٹھے ہیں۔ رکن کمیٹی سائرہ بانو نے کہا کہ سیدھا سیدھا بتائیں کہ یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے، کل یاپرسوں ہی ٹیرف بڑھایا گیا ہے،یہ حکومت کی ضرورت نہیں آئی ایم ایف کی ضرورت ہے،رکن کمیٹی شیر اکبر خان نے کہاکہ اس وقت چوری کتنی ہو رہی ہے،

کیا اس بل کی وجہ سے چوری میں اضافہ نہیں ہوگا؟اس بل کی وجہ سے عام صارف کتنا متاثر ہوگا ، عام صارف کے ساتھ زیادتی ہو گی،رکن کمیٹی ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ میں اس بل کے خلاف ووٹ دوں گا۔وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ ہم نے انرجی مکس ٹھیک کرنا ہے،کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کے بل بڑھے،گردشی قرضہ سابقہ حکومتوں کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے، ہم ریکوری بہتر کرنے جارہے ہیں۔رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ میرے گاﺅں میں حیسکو کی وجہ سے چار دن بجلی نہیں تھی، اس موقع پر ملک عامر ڈوگر نے بل پر رائے شماری کرانے کا کہا ، رائے شماری کے دوران ارکان کمیٹی ملک عامر ڈوگر، شیر اکبر خان، سیف الرحمان،صابر حسین قائم خانی اور لال چند نے بل کی حمایت کی جبکہ شازیہ مری، ریاض حسین پیرزادہ، غلام مصطفی شاہ اور سائرہ بانو نے بل کی مخالفت کی، بل چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں سے منظور کرلیا گیا، اجلاس کے دوران شازیہ مری اور عمر ایوب خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اجلاس کے دوران اسلام آباد میں بجلی کے نئے کنکشنز سے متعلق معاملہ بھی زیر غور آیا،چیئرمین کمیٹی نے آئیسکو حکام سے کہا کہ لوگوں کو نئے کنکشن نہیں مل رہے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں بجلی کے کنکشنز کے معاملے پر سی ڈی اے حکام کو بھی طلب کر لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں