رانا ثناء اللہ 3

خواجہ آصف نے توہین نہیں کی بلکہ راولا کوٹ والوں کو پنجاب سے زیادہ قریب کہا’رانا ثنا اللہ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہاہے کہ خواجہ آصف کے بیان کا مقصد یہ نہیں تھاکہ راولاکوٹ والے کشمیری نہیں،خواجہ آصف نے راولا کوٹ والوں کو پنجاب سے زیادہ قریب کہا، خواجہ آصف نے راولاکوٹ کے لوگوں کی توہین نہیں کی بلکہ راولاکوٹ والوں سے اپنائیت کا اظہار کیا۔

ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ بلاول بھٹو کے لہجے میں تبدیلی نہیں آئی،بلاول بھٹو نوجوان ہیں،ہمیشہ ایسے ہی ردعمل دیتے ہیں،آزاد کشمیر سے متعلق رائے کا اظہار کرنا خواجہ آصف کا حق تھا، بلاول بھٹو نے خواجہ آصف کی بات کو اپنا نقطہ نظر پہنادیا، خواجہ آصف کی رائے سے متعلق پارٹی میں گفتگو نہیں ہوئی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خواجہ آصف کے بیان کی تائید کرتاہوں،انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا،پیپلز پارٹی والے کشمیر میں الیکشن ملتوی کروانا چاہتے ہیں،پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کا ایک دوسرے سے تعاون ضروری ہے،تعاون کے بغیر نظام اور حکومت بہتر اندازمیں نہیں چل سکیں گے، پیپلزپارٹی حکومت اور اقتدارمیں شریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت نے قائم رہناہے،دونوں جماعتوں کو اکٹھے رہنا پڑے گا، ہم نے گلگت بلتستان میں8سیٹیں جیتیں،2آزاد امیدوار تھے، گلگت بلتستان میں صاف شفاف الیکشن ہوئے، نوازشریف نے گلگت بلتستان میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا حالانکہ ہمارے لئے گلگت بلتستان میں حکومت بنانا مشکل نہیں تھا۔سینیٹر نے کہا کہ بلاول بھٹو کے ساتھ طے ہوا کہ گلگت میں گورنر (ن)لیگ کا ہو گا، ڈپٹی سپیکر اور اپوزیشن لیڈر بھی (ن)لیگ کا ہو گا، آزاد کشمیرکی صورتحال کی ذمہ داری سب پر ڈالی جاسکتی ہے،ہم پیپلزپارٹی کو اور پیپلزپارٹی ہمیں ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے،آزادکشمیرمیں چوہدری انوارالحق کی حکومت کے بعد (ن)لیگ الیکشن چاہتی تھی۔

چوہدری انوارالحق کی حکومت کے بعد پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کو ترجیح دی،آزاد کشمیرمیں جلدی الیکشن ہو جاتے تو موجودہ صورتحال نہ ہوتی،پیپلز پارٹی نے آزادکشمیرمیں حکومت بنائی،فیصلے پر تنقید ہو سکتی ہے،نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے، فضل الرحمان نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو کہا دھرناختم کریں تو مذاکرات کاآغازکریں گے۔کالعدم ایکشن کمیٹی نے دھرنا ختم نہیں کیا،کالعدم ایکشن کمیٹی دھرنا ختم کرنے کے بعد مولانافضل الرحمان کو مطالبات بتائے، پاکستان سے الحاق اور سیٹوں کے معاملے کا اختیار ہمارے اور آزاد کشمیر حکومت کے پاس نہیں، کالعدم ایکشن کمیٹی کے کوئی اور مطالبات ہیں تو ان پر غور ہو سکتاہے۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے جا رہے ہیں،آئینی ترمیم اس وقت ممکن ہو گی جب بلاول بھٹو بھی اپنے ووٹ شامل کریں گے،بلاول سے بھی کہیں گے بلدیاتی سسٹم کو آئینی تحفظ دیا جائے،فنڈز بلدیاتی اداروں اور یو سیز تک جانے چاہئیں،اس ترمیم کے حق میں ہیں۔وزیراعظم نے اپوزیشن کوچوتھی بار مذاکرات کی دعوت دی، سہیل آفریدی کہیں ملاقاتیں کر چک یہیں،اس سے فرق نہیں پڑے گا،اپوزیشن کہے تو ایک،دودن میں وزیراعظم سے ملاقات کرا سکتا ہوں، 2018اور 24 کے انتخابات کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن بنا لیں، پارلیمانی کمیشن کے جو نتائج نکلنے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں