اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ منگل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسری بار قومی اسمبلی میں آئے ہیں اور اگر کسی کا حق مار کر اسمبلی میں پہنچے ہیں تو ان پر بھی لعنت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں ہر شخص اداروں کے سربراہان کی تعریفیں کرتا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ دوبارہ بھی انہی کے ذریعے اقتدار میں آئیں گے، اسٹیبلشمنٹ کی مسلط کردہ حکومت کو چار سال ہوگئے ہیں۔انہوں نے وزیر خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں اور وزیراعظم بھی ہر کام کی اجازت لے کر آتے ہیں۔جنید اکبر خان نے کہا کہ افغانستان کی سرحد بند کرکے کاروبار تباہ کیا گیا لیکن دہشت گردی میں کمی نہیں آئی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے آئین، قانون اور اداروں کو بے توقیر کیا جبکہ اپوزیشن کی آواز اٹھانے والوں کو نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انصاف نہیں مل سکتا تو عدلیہ کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ عوام اس کی شاہ خرچیاں برداشت نہیں کر سکتے۔اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اداروں اور ان کی قیادت کی تعریف کارکردگی کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے عالمی حالات میں ایسا کردار ادا کیا جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک ہیرو ہیں، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، تاہم ان کی جماعت صرف ملک کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے، کسی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تو تمام معاشی اعداد و شمار بے معنی ہیں۔









