اعظم نذیر تارڑ 12

پبلک پروکیورمنٹ کے عمل میں شفافیت، ادارہ جاتی آزادی اور مؤثر جوابدہی ضروری ہے، وزیر قانون

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے عمل میں شفافیت، ادارہ جاتی آزادی اور مؤثر جوابدہی کو یقینی بنانا ضروری ہے، پبلک پروکیورمنٹ اصلاحات سے سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔ یہ بات انہوں نے منگل کو یہاں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات کا اجلاس کیبنٹ ڈویڑن میں منعقد ہوا، جس میں قانون سازی اور مختلف ریگولیٹری شعبوں سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم اور نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے مؤثر طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق شکایات کے آزادانہ ازالے اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے مؤثر نظام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ سرکاری خریداری کے عمل میں ادارہ جاتی اعتماد اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق شکایات کے آزادانہ ازالے، آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، مفادات کے ٹکراؤ کے خاتمے اور ادارہ جاتی آزادی یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے کردار اور اختیارات کو مزید مؤثر بنانا اور مرکزی ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔اجلاس میں نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015 اور سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد پر بھی تفصیلی غور کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے سرکاری عہدوں پر تقرری اور دوبارہ تقرری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں متبادل ادویات اور ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026 کے مسودے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مجوزہ قواعد کے تحت متبادل ادویات اور ہیلتھ پروڈکٹس کے لیے جامع لائسنسنگ اور رجسٹریشن نظام متعارف کرانے، مختلف اقسام کے لیے الگ لائسنسنگ اور مؤثر تجدیدی نظام وضع کرنے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے قانونی قواعد میں غیر ضروری پیچیدگی اور ابہام ختم کرکے واضح، سادہ اور مؤثر قانونی زبان اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں بائیو اسٹڈی رولز 2017 میں مجوزہ ترامیم سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔ مجوزہ ترامیم کے ذریعے کلینیکل ریسرچ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے، ریگولیٹری طریقہ کار کو آسان کرنے اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قانونی اور ریگولیٹری اصلاحات کا بنیادی مقصد نظام کو شفاف، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو قانون سازی کے عمل میں وضاحت، میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی جوابدہی کے اصولوں کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں