ہائیکورٹ 13

قتل کیس میں سزائے موت پانے والے 3ملزمان لاہور ہائیکورٹ سے بری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے قتل اور اقدام قتل کیس میں تینوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا، عدالت عالیہ نے واقعے کے تقریباً سات سال بعد ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور جسٹس عہبر گل خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزمان زاہد علی، فضل عباس اور محمد سبطین کی اپیلوں پر 24صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے ملزم زاہد علی کو سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کے لیے بھجوایا گیا مرڈر ریفرنس عدم توثیق کیساتھ خارج کردیا جبکہ فضل عباس اور محمد سبطین کو سنائی گئی 10،10سال قید کی سزائیں بھی کالعدم قرار دیدیں۔عدالت نے جیل میں بند تینوں ملزمان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مدعی مقدمہ محمد عزیز کی جانب سے سزائوں میں اضافے کے لئے دائر درخواست بھی خارج کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف مقدمہ بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا لہٰذا ملزمان شک کے فائدے کے مستحق ہیں۔ موقع کے گواہوں کے بیانات اور طبی شہادتوں کے درمیان بھی واضح تضاد پایا گیا۔

عدالت نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خول مبینہ طور پر برآمد کی گئی 12بور بندوق کے نہیں تھے۔ اس تضاد نے استغاثہ کے مقدمے کو مزید مشکوک بنا دیا۔ٹرائل کورٹ سرگودھا نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد زاہد علی کو سزائے موت جبکہ فضل عباس اور محمد سبطین کو 10،10سال قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں