اسد قیصر 12

پی ٹی آئی پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور ترقی پسند ملک دیکھنا چاہتی ہے،اسدقیصر

صوابی(رپورٹنگ آن لائن)پی ٹی آئی کے رہنما، سابق سپیکر قومی اسمبلی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پرامن ہوگا، حکومت آئینی اور جمہوری حقوق بحال کریں۔وزیراعظم کے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف نہیں، بلکہ وہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور ترقی پسند ملک دیکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پہلے یہ جواب دیں کہ کیا آئین پاکستان ہر شہری کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق دیتا ہے؟۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے خود ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئینی حقوق سلب کیے گئے ہیں، جبکہ عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنیں قید ہیں اور پی ٹی آئی کے دو ہزار سے زائد کارکن جیلوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کے آئینی حقوق بھی سلب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ میں اس کا جائز حصہ نہیں دیا گیا، جبکہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت عوام سے کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی صورتحال پر ایک جرگہ منعقد کیا، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام، سیاسی قیادت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی متفقہ آواز کو مسلسل نظر انداز کرتی رہے گی؟ ۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو صوبے میں حکومت کرنے کا مکمل اختیار نہیں دیا گیا، کیونکہ وزیراعلیٰ کو پولیس میں تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے موثر اختیار حاصل نہیں، جبکہ دیگر تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو یہ اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی آئین، قانون اور جمہوری اصولوں پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ لانگ مارچ مکمل طور پر پرامن اور جمہوری ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کیلئے اسمبلیوں میں بیٹھے رہنے کا اخلاقی اور آئینی جواز کیا ہوگا؟ ۔انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اپنے جائز اور آئینی مطالبات کی تکمیل تک پرامن اور جمہوری احتجاج جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں