حافظ نعیم الرحمن 44

عدلیہ یرغمال اور عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی’حافظ نعیم الرحمن

رحیم یار خان(رپورٹنگ آن لائن ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عدلیہ یرغمال، عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا، حالیہ عدالتی اقدامات، آئینی ترامیم نے نظامِ انصاف کو مزید کمزور کیا ہے۔ ملک کو جمہوریت چاہیے، سیاسی پارٹیاں اپنے اندر بھی جمہوریت لائیں، یہ آخر کب تک فارم سنتالیس اور مقتدرہ کی مدد سے اقتدار میں آتی رہیں گی۔ صوبہ جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور کی حمایت کرتے ہیں۔

رحیم یار خان بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کو موقع ملا تو ان ترامیم کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے عید کے بعد عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اور مہنگائی کے خلاف بڑی تحریک کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ قبل ازیں صدر رحیم یار خان بار ایسوسی ایشن جام مبشر نے وکلاء قیادت کے ہمراہ حافظ نعیم الرحمن کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ جنرل سیکرٹری رحیم یار خان بار ذیشان جہانگیر، امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر اور امیر ضلع شیخ عمرفاروق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تقریب میں وکلاء کی بڑی تعداد شریک تھی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلوں جیسے اقدامات عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 24 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظام انصاف عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب 44 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مقامی حکومتوں کا موثر نظام قائم ہوجائے تو عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ خود بخود کم ہوجائے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مہنگے اور پیچیدہ عدالتی نظام کے باعث عام شہری انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع نہیں کر سکتے، عدلیہ میں کرپشن اور اثر و رسوخ کی باتیں کھلے عام ہو رہی ہیں۔ انہوں نے وکلا برادری پر زور دیا کہ وہ انصاف کی فراہمی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے فعال کردار ادا کرے اور تقسیم کی سیاست کا شکار نہ ہو۔حافظ نعیم الرحمن نے سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے دعویدار خود اپنی جماعتوں میں جمہوری روایات کو فروغ نہیں دیتے۔

خاندانی سیاست اور مخصوص ٹولوں کی اجارہ داری کے باعث کارکنوں کو آگے آنے کا موقع نہیں ملتا۔ دو نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیاں گزشتہ چالیس برس سے کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں ہیں، تاہم ان پر خاندانوں کی اجارہ داری ہے، پارٹی انتخابات کے دوران بادشاہ سلامت خود بخود اپنے آپ کے صدر یا چیئرمین بننے کا اعلان کردیتے ہیں۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جہاں نچلی سطح تک باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں اور حقیقی جمہوری عمل جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بار بار اقتدار میں آنے والی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں، انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کبھی چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آئے گی بلکہ عوامی طاقت سے آگے بڑھے گی۔امیر جماعت اسلامی نے سابق وزیراعظم عمران خان (بانی تحریک انصاف) کی قید کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنرل باجوہ کو توسیع دینے میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں شامل تھیں، صرف جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جنرل مشرف نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کراچی کے عوام پر ظلم کیے۔

جماعت اسلامی کو کراچی کے عوام نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب کیا تاہم میئر کی سیٹ پر پی پی کا قبضہ کرادیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں تعلیم، صحت اور معیشت سمیت تمام شعبے زوال کا شکار ہیں، حکمران اشرافیہ عوامی مسائل سے لاتعلق ہے۔ سرکاری اداروں کی نجکاری اور سکولوں کی آؤٹ سورسنگ نے نظام کو مزید خراب کر دیا ہے، تعلیم طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکی ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے توانائی پالیسیوں، مہنگائی، ٹیکسز اور آئی پی پیز اور ری گیسیفائڈ معاہدوں کو عوامی مشکلات کی بڑی وجہ قرار دیا اور کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی آئی پی پیز کے خلاف تحریک سے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی، آنے والے دنوں میں بھی تحریک چلائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے عوام کو متحرک ہونا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عید کے بعد نظام کی تبدیلی کے لیے منظم اور بڑے پیمانے پر تحریک چلائے گی اور اس کے قبل 50 لاکھ ممبرز اور 50 ہزار عوامی کمیٹیاں قائم کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے اور بہاولپور کو صوبائی حیثیت دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کا ساتھ دے اور نظامِ عدل کی بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے، جبکہ عوام سے کہا کہ وہ فرسوہ نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں