سپریم کورٹ آف پاکستان 7

سپریم کورٹ کاگواہ کا بیان غلط ریکارڈ کرنا غیرقانونی قرار، ٹرائل کورٹ کو تصحیح کا حکم

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے ویڈیو بیان اور تحریری ریکارڈ میں تضاد کے معاملے پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا عدالت کی قانونی ذمے داری ہے اور دفعہ 360(2)پر عمل نہ کرنا غیر قانونی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ویڈیو اور تحریری بیان کا موازنہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے بیان میں موجود غلطیوں کی تصحیح کے لیے 15 دن کی مہلت دی ہے جبکہ تصحیح کے بعد مقدمہ 30 ورکنگ ڈیز میں نمٹانے کی ہدایت بھی کی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ گواہ کے اعتراض کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، منصفانہ ٹرائل کے لیے درست ریکارڈنگ ناگزیر ہے اور عدالتیں تکنیکی بنیادوں پر انصاف سے انکار نہیں کر سکتیں۔عدالتِ عظمی نے حکم دیا ہے کہ گواہ کا اصل بیان ہی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور ویڈیو ریکارڈنگ کو اصل شہادت سے مطابقت کے لیے استعمال کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔یہ معاملہ صنم عمرانی ایڈووکیٹ کے قتل کی چشم دید گواہ نایاب عمرانی کی درخواست پر سپریم کورٹ پہنچا تھا۔درخواست گزار کے مطابق ماڈل کورٹ حیدر آباد نے اسلام آباد ای کورٹ سے ویڈیو لنک پر ریکارڈ کیے گئے گواہ کے بیانات غلط درج کیے جبکہ ماڈل کورٹ حیدر آباد کے جج نے قتل کے وقوعے کی تاریخ بھی تبدیل کر دی۔نایاب عمرانی نے پہلے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم انصاف نہ ملنے پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں