کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی بریت کیخلاف درخواست پر سماعت 25مئی تک ملتوی کردی ہے ۔سندھ ہائیکوٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی بریت کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ہماری جانب سے مقتول کے بیٹے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
لیکن ان کے علاقے میں کرفیو نافذ ہے جسکی وجہ سے نقیب اللہ کے بیٹے کو یہاں بلایا نہیں جاسکا۔ ایسے بھی کیسز موجود ہیں جس میں بیٹے کی جگہ بھائی نے حلف نامے جمع کروائے ہوں۔ ملزمان کے وکیل عامر منسوب قریشی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ متاثرہ شخص یا ان کے قانونی وارث اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ اپیل میں دیگر کو بھی فریق بنایا گیا لیکن نوٹس صرف ہمیں جاری ہوا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ پچھلی سماعت پر مائنر مدعی کو بلایا گیا تھا۔
سگے بھائی کو بھی کیس کی پیروی کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسری صورت میں بیٹے کو بلا کر حلف نامہ سائن کروایا جاسکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم ایک لمبی تاریخ رکھ دیتے ہیں جس میں سب کو آسانی ہوسکے گی۔ عدالت نے سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی۔
دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے اہم شواہد نظر انداز کرکے را انوار سمیت دیگر ملزموں کو بری کیا ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے 2023 میں عدم شواہد کی بنا پر را ؤانوار سمیت 18 ملزموں کو بری کردیا تھا۔ اپیل مقتول نقیب اللہ کے بھائی عالم شیر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔









