اختلافات 18

سعودیہ اور شام میں دفاعی تعاون کا معاہدہ، عالمی توانائی فراہمی کے تسلسل پر زور

ریاض (رپورٹنگ آن لائن) سعودی عرب اور شام نے تناؤ کو کم کرنے، بحرانوں کو قابو میں رکھنے اور اختلافات کو حل کرنے میں بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب اور شام نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی، جہاز رانی کی حفاظت، توانائی کی فراہمی کے تسلسل اور عالمی معیشت کے استحکام پر کسی بھی فوجی تصادم کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔

یہ بات سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادے محمد بن سلمان اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے ایک سیشن کے دوران سامنے آئی، یہ سیشن شامی صدر کے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر مملکت کے دورے کے ضمن میں منعقد ہوا۔

سعودیہ اور شام نے ان تمام اقدامات کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا جو بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز میں سمندری جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی اور استحکام کی حفاظت کے لیے علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے اپنے موقف میں ہم آہنگی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور مشاورت کی سطح کی عکاسی ہوتی ہے۔

اس دورے میں سعودی عرب اور شام کی دفاعی وزارتوں کے درمیان تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے، اس کے ساتھ ساتھ سعودی وزارت صنعت و معدنی وسائل اور شامی وزارت صنعت، داخلی تجارت و تحفظِ صارف کے درمیان صنعتی تعاون کے لیے ایک سمجھوتے کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

سعودیہ اور شام نے زراعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں، سعودی وزارتِ ماحول، پانی و زراعت اور متعلقہ شامی اداروں کے درمیان سمجھوتے کی دو یادداشتوں پر دستخط کیے، سعودی فنڈ برائے ترقی نے بھی شامی فریق کے ساتھ متعدد معاہدے کیے جن میں انفراسٹرکچر، صحت، ہاؤسنگ اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں منصوبے شامل ہیں۔

سعودی ولی عہد اور شامی صدر نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے ایسے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جس سے مشترکہ مفادات کو فائدہ پہنچے اور دونوں عوام کی امنگوں کی حمایت ہو۔

ملاقات کے آغاز میں شہزادے محمد بن سلمان نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا سلام صدر احمد الشرع کو پہنچایا، شامی صدر نے خادم الحرمین الشریفین کے لیے اپنے سلام اور سعودی عرب اور اس کے عوام کے لیے مزید ترقی و خوشحالی کی خواہشات کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں