لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم اللہ دتہ کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی اور اسے قتل کے الزام سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور مقدمے میں موجود شواہد معقول شک پیدا کرتے ہیں، جس کا فائدہ ملزم کو دیا جانا ضروری ہے۔جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ملزم اللہ دتہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمے کی ایف آئی آر تاخیر سے درج کیے جانے کے شواہد سامنے آئے جبکہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں پانچ گھنٹے کی تاخیر نے بھی استغاثہ کے مقف پر شکوک پیدا کیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے شواہد کا مجموعی جائزہ لینے سے استغاثہ کا مقف قابلِ اعتماد طور پر ثابت نہیں ہوتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے مبینہ عینی شاہدین جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی کا قابلِ اعتماد جواز پیش نہیں کر سکے۔ اس کے علاوہ مقتولہ کے بچوں کے بیانات ریکارڈ نہ کرنا بھی استغاثہ کے مقدمے میں اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔عدالت نے برآمد ہونے والی خون آلود چھری کے فرانزک شواہد کا بھی جائزہ لیا۔
فیصلے کے مطابق چھری سے حاصل ہونے والے ڈی این اے کے نتائج مقتولہ کے ڈی این اے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جس سے استغاثہ کے مقف کو تقویت نہیں مل سکی۔عدالتی فیصلے میں مزید قرار دیا گیا کہ طبی شواہد استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی عینی شہادتوں کی تائید نہیں کرتے۔ اسی طرح مقتولہ کو ہراساں کرنے کے مبینہ محرک کو بھی قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکا۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمات میں جرم ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے۔ اگر شواہد میں معقول شک موجود ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دینا قانون کا مسلمہ اصول ہے۔عدالت نے ان تمام قانونی اور شہادتی پہلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ دتہ کی اپیل منظور کر لی، عمر قید کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور اسے قتل کے الزام سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔








