محمد جاوید قصوری 115

بجلی کے بلوں میں 244 ارب روپے کی اووربلنگ شرمناک اقدام ہے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی 8 تقسیم میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور 244 ارب روپے کی اووربلنگ کا انکشاف لمحہ فکریہ ہے.

بجلی تقسیم کار کمپنیاں لائن لاسز پورے اور اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کیلئے اووربلنگ میں ملوث ہیں، 5 تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین کو 47.81 ارب کی اووربلنگ کی اور صرف ایک ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین کو 47 ارب 81 کروڑ کے اضافی بل بھیجے گئے، ملوث افسران کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی، سال 2023ـ24 میں صارفین کو 90 کروڑ 46 لاکھ بجلی یونٹس کا اضافی بل بھیجا گیا جبکہ زرعی صارفین کو اووربلنگ 148 ارب روپے سے زائد ہے۔

انہوں نے اپنے ردمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں کرپشن اور قواعد کی بے ضابطگیاں معمول بن چکی جس سے قومی خزانہ کو اربوں کا نقصان اور کرپشن اور لوٹ مار میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرکاری وسائل کی لوٹ مار کسی ایک محکمے یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ محکمہ ریونیو سے لے کر تعلیم اور صحت سے لے کر پولیس ہر جگہ جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ قومی خزانے پر ہاتھ صاف کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 10 کھرب کی مالی بے ضابطگیوں کے بعد اب وفاقی وزارتوں میں بھی 1100 ارب روپے کی کرپشن سامنے آ گئی ہے،لگتا ہے چچا اور بھتیجی قومی خزانہ لوٹنے کے غیر اعلانیہ مقابلے میں مصروف ہیں۔ملک میں نہ کوئی میگا پراجیکٹ ہے، نہ عوامی ریلیف ۔ لیکن قرضہ دُگنا ہو چکاہے،فارم 47 کی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ہر ادارے میں کرپشن کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

یہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹس چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ ملک کو منظم طریقے سے لوٹا جا رہا ہیاور کوئی پوچھنے والا نہیں۔سوالات اٹھانے والوں کو پیکا ایکٹ کے تحت اٹھانا اور دھمکانا معمول بن چکا ہے۔حکومت اپنے لئے خود ہی مسائل پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اب ایک ناسور ہے جو نظام کی جڑوں میں سرایت کر چکا ہے۔سرکاری ادارے کرپشن کی آماجگاہ بن چکے ہیں.

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کرپشن میں ملوث سرکاری اداروں کے 3 ہزار 500 ملازمین کو گرفتار کیا ہے۔ محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت سرکاری اداروں میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے کڑے احتساب کا نظام متعارف کرانے کے ساتھ سرکاری اداروںمیں سیاسی مداخلت کا خاتمہ یقینی بنائے تاکہ کرپشن کے دروازے بند ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں