شاہد خاقان عباسی 18

ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے، شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہر گھر غریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے سنگین معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ آج کی گفتگو کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کو اجاگر کرنا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چھ برسوں میں عوام کی آمدن کم ہوئی جبکہ ہر گھر کی قوتِ خرید میں 14 فیصد کمی آ چکی ہے، جس کے باعث “پاکستان کا ہر گھرانہ غریب ہو چکا ہے۔

سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ چند سال قبل فی کس ٹیکس کا بوجھ تقریباً 30 ہزار روپے تھا جو اب بڑھ کر 60 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ بے روزگاری گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار بھی غربت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم حقیقت سرکاری دعووں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی بنیادی وجہ واضح معاشی پالیسیوں کا فقدان ہے اور سرمایہ کار اس غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان آنے سے گریز کر رہے ہیں، بجلی، گیس، پٹرول اور ڈیزل سمیت تمام بنیادی ضروریات مہنگی ہو چکی ہیں، جبکہ آٹا، گوشت، دال اور مرغی کی کھپت میں بھی واضح کمی آئی ہے۔

سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے غذائی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی (سٹنٹنگ) کا شکار ہیں، 25 فیصد بچوں کو بنیادی ویکسین بھی دستیاب نہیں، جبکہ ہزاروں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ خوراک کا بڑا حصہ آٹے پر مشتمل ہے، مگر گندم کی پالیسیوں میں بدانتظامی نے کسان اور عوام دونوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ فائدہ صرف مڈل مین کو ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال نئے تجربات کیے جاتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شفاف نظام، مؤثر اصلاحات اور موروثی سیاست کے خاتمے کی ہے، عوام کو آزادانہ فیصلے کا حق دیا جائے اور سیاسی انتقام، ایک دوسرے پر الزامات اور جیلوں کی سیاست ختم کی جائے۔

سربراہ عوام پاکستان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت حکومتی نمائندے بھی اب ملک کے مسائل کا اعتراف کر رہے ہیں، حالانکہ عوام کئی برسوں سے یہی صورتحال بیان کر رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ حکومت نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی اصلاحات نافذ کرے تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔

انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ وہ اور سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف کشمیر جانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم انہیں ڈی ایس پی کی جانب سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں