لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے گاڑی کی سپرداری کے مقدمے میں 12سال تک ٹرائل کورٹ میں چالان جمع نہ کروانے اور تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے شہری طاہر علی سندھو کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ڈی ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ اسکواڈ ساجد سمیت دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمے کی تفتیش اور چالان جمع نہ کروانے پر سوالات اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ مقدمہ 2015ء میں درج ہوا تھا، آج تک اس میں کیا پیش رفت ہوئی؟ ،چالان ٹرائل کورٹ میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟۔ عدالت نے مقدمے میں طویل عرصے سے پیش رفت نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ڈی ایس پی اے وی ایل ایس عدالت کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے، عدالت نے سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ سے مقدمے میں پیش رفت نہ ہونے اور چالان جمع نہ کروانے کے حوالے سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت 3نومبر تک ملتوی کر دی.
درخواست گزار طاہر علی سندھو نے گاڑی کی سپرداری سے متعلق ایڈیشنل سیشن جج کے 22مارچ 2017ء کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ گاڑی کی تحویل کے تنازع کے باعث مختلف مقدمات درج ہوئے، جن کی تفتیش اینٹی وہیکل لفٹنگ اسکواڈ نے کی۔ریکارڈ کے مطابق گاڑی کے معاملے پر تھانہ اقبال ٹائون میں یکم مارچ 2015ء کو دفعہ 381اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ تھانہ مصطفی ٹائون میں 6اپریل 2015ء کو دھوکہ دہی اور جعلسازی سے متعلق دفعات 420، 468اور 471کے تحت مقدمہ درج ہوا۔دونوں مقدمات کی تفتیش اے وی ایل ایس نے کی۔ گاڑی کی تحویل کے تنازع پر جاری قانونی کارروائی کے دوران درخواست گزار نے سپرداری کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔









