باقر قالیباف 8

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کیخلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان

تہران(رپورٹنگ آن لائن) ایران نے امریکا کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے مطالبات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم وہ نہ غیرمعینہ مدت تک جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات میں الجھنا چاہتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ایران کا مقصد ایسا پائیدار دفاعی توازن قائم کرنا ہے جو مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کرسکے، تہران مذاکرات کے ذریعے اس ہدف کا حصول چاہتا ہے لیکن اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر لڑائی ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق قالیباف نے امریکا کے دباؤ اور مقررہ ڈیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلتیں گزر چکی ہیں جن میں ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششیں بھی شامل ہیں لیکن ان اقدامات کے باوجود ایرانی نظام بدستور کام کر رہا ہے۔

قبل ازیں قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پر بھی طنز کیا اور ان کی معاشی پیش گوئیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فزکس کا نوبیل انعام دینے کا مطالبہ کیا۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کے نتائج سے متعلق بیسنٹ کی پیش گوئیوں نے وقت کے تصور کو ہی بے معنی بنا دیا ہے۔

ایرانی قیادت کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف مستقبل کیلئے دفاعی ضمانتیں حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کے دباؤ کے سامنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں