چین، انسانی حقوق

چین، انسانی حقوق کے حوالے سے چینی نقطہ نظر سے متعلق ایک رپورٹ کا اجراء

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک)چائنا فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس ڈیولپمنٹ اور شنہوا نیوز ایجنسی کے تحت نیو چائنا ریسرچ کی جانب سے مشترکہ طور پر انسانی حقوق کے بارے میں چینی نقطہ نظر سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق چین کے نقطہ نظر کو عملی طور پر مسلسل بہتر بنایا گیا ہے ،جو ملک کے معروضی حالات پر مبنی ہے۔

پیر کے روز رپورٹ کے مطابق چین نے انسانی حقوق کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نظر تشکیل دیا ہے جس میں “عوام” کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے ، “ترقی” کو محرک قوت اور “پُر اطمینان زندگی” کو ہدف کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب کھوکھلے بیانات کے بجائے ٹھوس اقدامات ہیں۔ چین نے قدم بہ قدم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اپنے عوام کو غربت سے نجات دلاتے ہوئے اُن کے معیار زندگی کو بلند کیا ہے، اور ایک جامع اعتدال پسند خوشحال معاشرے کی تکمیل کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ خوشحالی کے اعلیٰ ہدف کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہوئے چین دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو خوشحال اور باوقار زندگی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کے حوالے سے چین کے نئے خیالات، اقدامات اور طرز عمل باقی دنیا، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی تحریک کا باعث بن سکتے ہیں۔انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینے میں چین کی کامیابی کا سہرا کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی پرعزم قیادت کو جاتا ہے۔چین تہذیبوں کے مابین تبادلے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کی حمایت کرتا ہے ، انسانی حقوق میں “گورننس ” سے متعلق خامیوں کو دور کر رہا ہے ، انسانی حقوق کی منصفانہ ، معقول اور جامع عالمی گورننس کو فروغ دے رہا ہے ، اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کے لئے مشترکہ اقدامات کر رہا ہے۔