اختیار ولی 19

پی ٹی آئی اور کالعدم ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،اختیار ولی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں، جبکہ دونوں تنظیمیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔اپنے بیان میں اختیار ولی خان نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کو اپنا عسکری ونگ اور ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی ونگ بنا رکھا ہے، پی ٹی آئی اور دہشتگرد تنظیموں کے روابط کے شواہد کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ گزشتہ روز ایک ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، ایسے عناصر مساجد اور عوام پر حملوں سمیت خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر دہشتگرد تنظیموں کی فنڈنگ، اسپانسرنگ اور سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا اور بتایا کہ ذاکر اللہ کی تصاویر پی ٹی آئی کے متعدد ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ موجود ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے مارچ، جلسوں اور دھرنوں میں خارجی عناصر کی شمولیت کے شواہد موجود ہیں اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کیے گئے حفاظتی اقدامات کی ایک وجہ دہشتگرد عناصر کا خطرہ تھا۔اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں اور الزام عائد کیا کہ صوبے میں حکومت کالعدم تنظیموں کے نمائندوں کے طور پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی رہنماں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سرگرمیوں اور واقعات سے باخبر یا بے خبر ہونے کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔انہوں نے جنید اکبر سے بھی صوبے میں جاری سرگرمیوں اور معاملات پر اپنا مقف واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی رہنما بتائیں کہ وہ دہشتگردی کے واقعات اور سرگرمیوں کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں اور مبینہ شواہد کو کس بنیاد پر مسترد کرتے ہیں۔اختیار ولی خان نے کہا کہ عشقِ بانی کی آڑ میں اسلام آباد پر یلغار اور 9 مئی جیسے واقعات کا کیا جواز ہے، جبکہ اسی آڑ میں اکتوبر اور 26 نومبر جیسے واقعات بھی دہرائے گئے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور شہادتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری حکومت اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔اختیار ولی خان نے کہا کہ معاملہ اب سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک سے آگے بڑھ چکا ہے اور پاکستان میں اس سلسلے کو مزید جاری نہیں رہنے دیا جاسکتا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔انہوں نے پی ٹی آئی کے جمہوریت، قانون اور امن پسند کارکنوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنا مقف واضح کریں۔ اختیار ولی خان نے کہا کہ مارچ اور ریلیوں کی آڑ میں انتشار کی سیاست مزید قبول نہیں کی جائے گی اور سیاسی جماعتوں کو اپنے تعلقات اور وابستگیوں سے متعلق قوم کو جواب دینا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں