وزیر داخلہ 118

پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر میں نے کام شروع کر دیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ

اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر میں نے کام شروع کر دیا ہے،پنجاب میں میرا داخلہ بند کیا گیا تو گورنر راج کے نفاذ کے لئے یہ جواز کافی ہوگا، عدلیہ کے اختیارات میں کمی کی بات کوئی نہیں کرتا ، کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ عدالتی اختیارات پارلیمان کو دے دیئے جائیں اسے ریگولیٹ کرنا چاہیے، عدالتی فیصلے معاملات کو متنازع کریں گے تو ڈالر چھلانگیں لگائے گا اور مہنگائی بھی ہوگی، موجودہ سیاسی حالات پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے سیاسی صورتحال مزید خراب ہوئی۔

بدھ کواسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ملک میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملک کا سیاسی عدم استحکام ہے جس کی بڑی وجہ عدلیہ کے متنازع فیصلے ہیں،عدالت نے پہلے کہا تھا کہ 25منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے لیکن چوہدری پرویز الٰہی کے کیس میں انہی 25منحرف اراکین کے ووٹ کو شمار کر لیا گیا،جبکہ حمزہ شہباز 197ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو چکے تھے،جس سے عدالتی احکامات میں ابہام پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر مزید اوپر چلا جائے گا،اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہوگی اور ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔

عدالتی فیصلہ قابل افسوس ہے،عدالت کا احترام ہر فرد پر لازمی امر ہے،آزاد اور غیر جانبدار اور قابل عزت عدلیہ معاشرے کی اہم ضرورت ہے، آزاد عدلیہ کا معاملہ صرف مسلم لیگ ن اور سیاستدانوں کا نہیں بلکہ تمام اداروں کی بھی ذمہ داری ہے،آزاد عدلیہ کےلئے قانون سازی نہیں ہوسکتی یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک پوری قوم اس کےلئے کام نہ کرے۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ علماءکرام حکومتی سطح پر افغانستان نہیں گئے،علماءکرام کاایک وفد افغانستان میں ٹی پی پی سے مذاکرات کےلئے گیا،یہ حکومت کے علم میں نہین ہے،جو بھی امن مذاکرات کےلئے کام کرے گا ہم اس کا خیر مقدم کریں گے،عدلیہ کے اختیارات کو کم کوئی بھی نہیں کر سکتا،اسے ریگولیٹ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بنچ بنانے کا اختیار اور سوموٹو بنانے کا اختیار وزیراعظم کو نہیں دے رہے، ہم چاہتے ہیں کہ تین یا پانچ ججوں سے مشاورت ضرور ہونی چاہیے،اس سے عدلیہ کی عزت اور احترام میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی حکومت اتحادی جماعتوں کے پاس ہے جبکہ بلوچستان کی بھی حکومت اتحادی جماعتوں کے پاس ہے،وفاقی حکومت کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے،یہ بات غلط ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس محدود اختیارات ہوتے ہیں،وفاقی حکومت کے محکمے صوبوں میں موجود ہیں اور ان کے محکموں کے بجٹ صوبائی حکومتوں کے محکموں سے بھی زیادہ ہیں،ایسی بات ناسمجھ اور زبان دراز لوگ ہی کرتے ہیں۔وزیرداخلہ نے دھمکی دی کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا پنجاب میں داخلہ بند کیا جائے گا انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ گورنر راج کی سمری وزارت داخلہ نے بھجوانی ہوتی ہے جس پر وزارت داخلہ نے کام شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا اگر میرا داخلہ پنجاب میں بند کیا گیا تو یہی گورنر راج کے لئے جواز کافی ہوگا۔ عمران خان اور فرح گوگی کے کرپشن کے کیسز نیب میں موجود ہیں نیب کے چیئرمین بااختیار ہیں کرپشن کے کیسز پر کام جاری ہیں۔

اگر کرپشن کے کیسز پر مقدمات بنے تو ضرور بنیں گے۔ انہوں نے کہا فرح گوگی کا معاملہ پنجاب اینٹی کرپشن میں چل رہا ہے انہیں پنجاب حکومت بند کردے گی لیکن وہ مقدمہ نیب میں بھی چل رہا ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ ادارے بااختیار ہوں اور خود کام کریں۔ انہوں نے کہا شہزاد اکبر کی طرح حکومت مخالفین کے خلاف مقدمات نہ بنوائے یہ کام ہمارا نہیں ہے۔ ادارے کام کررہے ہیں لیکن ہم چالان عدالت میں جمع کرانے سے پہلے پریس کانفرنس کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

عمران خان کے خلاف ایسے ایسے کرپشن کے کیسز سامنے آرہے ہیں جب حقائق کے سامنے آئینگے تو عوام کے سامنے وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ رانا ثناءاﷲ نے کہا کہ عمران خان توشہ خانہ کا جواب نہیں دے سکے انہوںنے پچاس ارب کا ٹیکا قومی خزانے کو لگایا اور پانچ ارب روپے کی پراپرٹی جو 458کنال بنتی ہے وہ قادر ٹرسٹ کے حوالے کی جس کے ٹرسٹی عمران خان اور بشریٰ بی بی خود ہیں۔ ساری چیزیں جب نیب چالان عدالت میں پیش کرے گا تو سامنے آجائیں گی۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد (ن) لیگ الیکشن میں جانا چاہتی تھی لیکن محب الوطن حلقوں اور اتحادیوں کے مشورے پر حکومت سنبھالی کیونکہ محب الوطن حلقوں کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم ملکی معیشت کا بیٹرا غرق کردیا اگر آپ نے حکومت نہ سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ ہم نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی اور ملک کو دیوالیہ کے خطرے سے باہر نکالا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں