سعید غنی 15

نئے صوبے کسی کے کہنے سے نہیں بلکہ آئین کے تحت ہی بن سکتے ہیں ،سعید غنی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبے کسی کے کہنے سے نہیں بلکہ آئین کے تحت اس صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری کے بعد ہی بن سکتے ہیں۔ پنجاب کے وزراء نے اپنی ہی وفاقی حکومت کے خلاف پورٹ پر بات کرکے چارج شیٹ دی ہے۔ پنجاب کے وزرا مریم نواز کے دائرہ نظر میں راہ کر سوچتے ہیں۔ این آئی سی وی ڈی دنیا کے سب سے بڑے اسپتالوں میں سے ایک ہے جہاں سالانہ لاکھوں مریضوں کا نہ صرف مفت علاج کیا جاتا ہے بلکہ پورے ملک سے آنے والے مریضوں کو یہ سہولت میسر ہے۔

صوبہ سندھ نے اس سال کے بجٹ میں اپنے ترقیاتی بجٹ میں 29 فیصد جبکہ پنجاب نے 39 فیصد کمی کی ہے اور ہمیں گڈ گورنس کی نصیحت کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر سید وقار مہدی اور تیمور سیال بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے وزراء نے پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید وہ کبھی سندھ آئے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے نوجوان اراکین اسمبلی سندھ آئے تھے، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور کہا کہ کراچی ویسا نہیں جیسا ہمیں بتایا جاتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے ان دو وزرا نے کراچی پورٹ کے ریونیو کے حوالے سے بات کی، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ بندرگاہیں وفاقی حکومت کے اختیار میں ہوتی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو بہتر علاج کی ضرورت ہے، اور سندھ میں صحت کے شعبے میں جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، وہ سب کے لیے موجود ہیں۔ این آئی سی وی ڈی میں ایک ہی چھت کے نیچے دل کے تمام امراض کا علاج کیا جاتا ہے، دنیا میں اس طرز کا نظام کہیں اور موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے دو وزرا پریس کانفرنس کر رہے تھے میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ کچھ دن پہلے ینگ پارلیمنٹیرینز کا وفد سندھ آیا تھا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے انہی میں سے مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے بتایا کہ کراچی جیسا ہمیں بتایا جاتا ہے، حقیقت میں ویسا نہیں ہے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ نون لیگی وزرا مریم نواز کے دائرنظر میں رہ کر سوچتے ہیں۔

اگر کراچی پورٹ کے معاملات پر بات کی جاتی ہے تو یہ دراصل اپنی ہی وفاقی حکومت کو چارج شیٹ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرگودھا میں دل کا اسپتال بنانا اچھی بات ہے، ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور دیگر بھی ایسے اسپتال ضرور بننے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے حوالے سے ہم پر تنقید کرنے والے وزراء این آئی سی وی ڈی کو ہی دیکھ لیں کہ یہ دنیا کے بہترین دل کے اسپتالوں میں شامل ہے، یہاں جتنا دل کا علاج ہوتا ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال این آئی سی وی ڈی میں 41 لاکھ 40 ہزار مریضوں کا مفت علاج کیا گیا، جس میں سے پنجاب سے ایک لاکھ انیس ہزار مریض آئے اور انہوں نے این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج کروایا۔

صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگ دل کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کے لیے بھی سندھ آتے ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ حالیہ بجٹ میں صوبائی بجٹ پر کافی دباؤ آیا، لیکن ہم نے اخراجات کو قابو میں رکھا، جبکہ پنجاب نے اپنے اخراجات میں بارہ فیصد اضافہ کیا۔ ہم نے تمام تر دباؤ کے باوجود اپنے ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے 29.2 فیصد کم کیا جبکہ پنجاب نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 39.4 فیصد کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سندھ سے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے۔

سندھ حکومت نے سال 2025ـ26 میں اپنے وسائل سے 676 ارب روپے کی کلیکشن کی جبکہ اسی دوران پنجاب نے 524 ارب روپے اکٹھے کیے۔ سعید غنی نے کہا کہ پنجاب قرضہ دے کر لوگوں کے گھر بنا رہا ہے، جبکہ سندھ حکومت مفت میں 21 لاکھ گھر بنا رہی ہے اور خواتین کو مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں۔ کراچی کو ٹینکر مافیا کے حوالے کردیا گیا ہے تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا کراچی میں پانی کا مسئلہ 2008 سے قبل نہیں تھا اور کراچی دنیا کے چند شہروں میں سے ایک شہر ہے جہاں پینے کا پانی 160 کلومیٹر دور سے لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اجازت دی کہ کراچی میں سات ہائیڈرنٹس چلائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے کا اختیار آئین کے مطابق اسمبلیوں کے پاس ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی نہیں بلکہ تمام منتخب نمائندے کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس کے برعکس پنجاب میں نئے صوبوں کے لئے سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کی تھی کہ پنجاب میں دو نئے صوبے بننے چاہئیں اور اس کے بعد 2012 میں پنجاب اسمبلی میں بھی دو نئے صوبوں کی قرار داد منظور کی گئی کیونکہ پنجاب کے لوگ چاہتے ہیں کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر لیکچر اگر پیپلز پارٹی نہیں دے گی تو کیا مسلم لیگ (ن) دے گی؟ کیا پھر یہ حق ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسے آمروں کو دے دیا جائے گا؟ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے آمروں سے لڑ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تو اپنی جان بچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا جبکہ اس کے برعکس میاں نواز شریف نے آمروں سے معاہدہ کرکے 10 سال سے اس ملک سے چلے گئے اور اب واپس آکر سیاست کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ماضی میں دھاندلی کے الزامات کی زد میں رہی ہیں۔

نواز شریف معاہدہ کرکے دس سال کے لیے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ بچے بچے کو معلوم ہے کہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، 2024 کے انتخابات میں نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا گیا اور جو لوگ خیرات میں ملنے والی نشستوں پر بیٹھے ہیں، وہ ہم پر تنقید کرتے ہیں، سعید غنی نے کہا کہ جو لوگ چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، وہ خود کو سب سے زیادہ دیانتدار اور شریف قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہمارے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالے گا تو ہم اس کے خلاف آواز بلند کریں گے، ہم ان کے چہروں سے پارسائی اور معصومیت کے نقاب ہٹاتے رہیں گے، یہ لوگ عوامی حمایت کے بجائے مانگے تانگے کی حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں، سعید غنی نے کہا کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ملک توڑنے کا کوئی حقیقی مقدمہ ہوتا تو انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

سعید غنی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے جس انداز اور جذبے کے ساتھ کشمیر میں انتخابی مہم چلائی، وہ قابلِ تحسین ہے، ہم کشمیر کے عوام کے حقِ حاکمیت، حقِ روزگار اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، سعید غنی نے کہا کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے عوام کے ووٹ کی حرمت کو بار بار پامال کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں