راولپنڈی 88

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی کے افسران پر اینٹی کرپشن کا مقدمہ، سیکرٹری وجی ایکسائز کے لیے چیلنج بن گیا

(رپورٹنگ آن لائن) ٹارگٹ اور ریکوری کی دوڑ میں لگے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی کے دو افسر جیل جاپہنچے۔جبکہ ریکوری کے لیے ملازمین پر دن رات دباؤ ڈالنے والے محکمے کے سیکرٹری اور ڈی جی کے لیے محکمے کی عزت بچانا چیلنج بن گیا ہے۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن

راولپنڈی کے معروف نشاط سینما کی اراضی تنازع میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی کے ای ٹی وی وسیم حیدر اور انسپکٹر فضیل بھٹی اور محمد عارف نامی ایک شہری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

تاہم اس مقدمے نے قانونی اور انتظامی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ ایکسائز کے ملازمین نے اپنے دائرہ کار کے مطابق صرف پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص اور وصولی کا کام کیا، جسے بدعنوانی کا رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات اور ماہرین کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن جائیداد کی ملکیت (Ownership Title) کا فیصلہ کرنے والا ادارہ نہیں ہے۔ یہ محکمہ صرف ٹیکس وصولی کا ذمہ دار ہے۔ پی ٹی ون (PT-1) دراصل محکمہ ایکسائز کا Assessment Register ہے، جس کا واحد مقصد پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص اور وصولی ہے۔ یہ کسی صورت میں ملکیت کی دستاویز یا ٹائٹل نہیں ہوتا۔ قانونی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ملکیت کا تعین رجسٹری، انتقال، الاٹمنٹ، عدالتی فیصلوں اور دیگر قانونی دستاویزات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پی ٹی ون محض ٹیکس ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

راولپنڈی
راولپنڈی

محکمہ ایکسائز کے افسران نے ریکارڈ کے مطابق 12 سو مربع گز رقبہ کا اندراج قابض اراضی محمد عارف کے نام کیا جبکہ 649 مربع گز رقبہ بدستور شیخ احمد صادق نامی شخص کے نام پر رہنے دی۔ ایکسائز ملازمین نے مذکورہ جائیداد پر عرصہ دراز سے واجب الادا پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 44 لاکھ 26 ہزار 786 روپے ٹیکس وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروایا۔

واضح رہے پنجاب اربن ایموویبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 1958 کے سیکشن 14 کے تحت واجب الادا پراپرٹی ٹیکس واجب الادا پراپرٹی ٹیکس کرایہ دار سے براہ راست وصل کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرایا جاسکتا ہے۔ یہ کارروائی صرف ٹیکس وصولی کے لیے ہوتی ہے، ملکیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن

ادھر قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے قوانین اور رولز (بشمول West Pakistan Anti-Corruption Establishment Ordinance 1961 اور Punjab Anti-Corruption Establishment Rules) کے مطابق اس کا دائرہ کار رشوت، جعلسازی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے واضح شواہد تک محدود ہے۔ اگر معاملہ بنیادی طور پر جائیداد کی ملکیت، الاٹمنٹ یا عدالتی فیصلوں کی تشریح سے متعلق ہو تو اس کا فیصلہ سول یا آئینی عدالتوں کا اختیار ہے۔ اینٹی کرپشن کو محض ٹیکس ریکارڈ کی بنیاد پر مداخلت کرنے کا حق نہیں، یہ اختیارات سے تجاوز ہو سکتا ہے۔

تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کو معاملے میں براہ راست ۔مداخلت کرتے ہویے گرفتار دونوں ملازمین کو رہا کروانا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ محکمے کی عزت اور ساکھ سے براہ راست جڑا ہے جہاں ان ملازمین نے کرپشن نہیں کی بلکہ ریونیو کی ریکوری کی ہے اور ریکوری اور ٹارگٹ کے حصول کے لیے دباؤ ڈالنے والے محکمے کے سیکرٹری اور ڈی جی کو اپنے ملازمین کو تحفظ بھی دینا چاہیئے کیونکہ یہ معاملہ رشوت ستانی کا نہیں یے۔ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرفتار دونوں ملازمین کہ شہرت ایماندارانہ یے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں