رپورٹنگ آن لائن۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن شیخوپورہ کے ای ٹی او ثاقب محمود، سپروائزر محمد زاہد مرزا کے خلاف کرپشن، بھتہ خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات کے تحت انکوائری شروع کر دی ہے۔

اینٹی کرپشن پنجاب کو موصول ہونے والی شکایت میں شہری عامر اسحاق نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ سپروائزر محمد زاہد مرزا, ڈمپر مالکان اور ٹرانسپورٹرز سے مبینہ طور پر فی ڈمپر 5000 روپے رشوت وصول کرتا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق زاہد مرزا یہ دعویٰ کر کے شہریوں کو ہراساں کرتا ہے کہ وہ ماہانہ 5 لاکھ روپے ای ٹی او ثاقب محمود کو اور 5 لاکھ روپے اپنے اعلیٰ افسران کو بطور رشوت دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ قانون کی گرفت سے باہر ہے۔
درخواست میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سپروائزر خود کو “انسپکٹر ٹو ای ٹی او” ظاہر کر کے سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال کرتا ہے اور نمبر پلیٹس، کارڈز اور فائلوں کے اجرا کے لیے شہریوں سے غیر قانونی رقوم بٹورتا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ شام 6 بجے سے آدھی رات تک نام نہاد “موٹر چیکنگ” کے نام پر ٹرانسپورٹرز سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔
شکایت کنندہ نے انکوائری کے دوران افسر کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ انکوائری پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ اس شکایت کی نقول وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ محکمے کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔









