لاہور(رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مجرم کی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے مجرم بشارت علی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ۔جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیا باجوہ نے مجرم بشارت علی کی جیل اپیل پر سماعت کی ۔ عدالت کی جانب سے نامزد مجرم کے وکیل عرفان احمد کھچی نے دلائل دئیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مجرم پر اپنی بیون کو گلا دبا کر قتل کرنے کا الزام ہے،مجرم پر بیوی کو قتل کرنے کا مقدمہ تھانہ صدر گوجرہ میں 2020ء کو درج ہوا،ایڈیشنل سیشن جج نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے مجرم کو 20اپریل 2023ء کو پھانسی کی سزا سنائی۔ وکیل نے کہا کہ مقتولہ نے گھریلو ناچاکی پر خود کشی کی تھی،مقدمہ میں پیش کیے گئے گواہان نے غلط بیانی کی،گواہان اسی گائوں کے نہیں بلکہ دوسرے گائوں کے ہیں،
ایف آئی آر کے مطابق دونوں گواہ کسی کے گھر مہمان تھے اور گلی میں سو رہے تھے،سردی کی راتوں میں کوئی میزبان اپنے مہمانوں کو گلی میں نہیں سلاتا،خاتون کے قتل کے وقت اسے بچانے کیوں نہیں آئے۔ لہٰذا استدعا ہے کہعدالت مجرم کے خلاف دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دے۔









