اسلام آباد ہائیکورٹ 17

عمران خان کی قید تنہائی، جیل میں خلاف قانون سلوک کے سنگین الزامات نظر انداز نہیں کر سکتے، عدالت

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف درخواستوں پر اپنے تحریری حکم میں کہا ہے کہ قید تنہائی اور جیل میں خلاف قانون سلوک کے سنگین الزامات نظر انداز نہیں کر سکتے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خانم اور مبشرہ مانیکا کی درخواستوں پر 10 صفحات کا تحریری حکم جاری کر دیا ، حکم نامے میں کہا گیا کہ درخواستوں میں قید تنہائی اور جیل میں خلاف قانون سلوک کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں،ان الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نہ ہی دوسرے فریق کو نوٹس بغیر یا جیل حکام کی رپورٹ بغیر مسترد کیا جا سکتا ہے، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے قیدی کو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سخت قید اور سادہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو قید تنہائی کی سزا بالکل بھی نہیں دی گئی ، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے الزامات جھوٹے ہیں ، نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے الزامات لگائے گئے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ بانی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی متعلق سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں