مفتاح اسماعیل 17

سندھ کا معاملہ نسبتاًمختلف ہے،سندھ میں انتظامی یونٹس بنائے جائیں ‘مفتاح اسماعیل

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وہ صوبہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرتے لیکن جس علاقے کے عوام کی خواہش ہو وہاں نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں،پاکستان کا موجودہ نظام درست طریقے سے نہیں چل رہا، اس پر شاید ہی کسی کو اختلاف ہو، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ نظام کا بہتر متبادل کیا ہونا چاہیے۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے لوگ اگر الگ صوبہ چاہتے ہیں تو ان کی رائے کا احترام ہونا چاہیے،اگر کسی علاقے کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل موجودہ انتظامی ڈھانچے میں حل نہیں ہورہے تو انہیں اپنی انتظامی اکائی بنانے کا حق ہونا چاہیے، اس سے کسی قسم کی دشمنی پیدا نہیں ہوتی۔جنوبی پنجاب میں صرف سرائیکی بولنے والے نہیں رہتے، لاکھوں پنجابی بولنے والے بھی آباد ہیں، اس لیے نئے صوبے کا مطلب کسی لسانی تقسیم یا نفرت کو فروغ دینا نہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ترقیاتی اخراجات اس عدم توازن کی واضح مثال ہیں، گزشتہ سال پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں لاہور ڈویژن کے ہر شہری پر تقریباً 13 ہزار روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے، جبکہ لودھراں میں فی کس تقریباً408 روپے، لیہ میں تقریباً540 روپے اور رحیم یار خان میں بھی اتنی ہی رقم خرچ ہوئی۔ جب تمام فیصلے ایک ہی مرکز سے کیے جائیں گے تو وسائل بھی اسی مرکز کے گرد زیادہ خرچ ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام کی بات ضرور کی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بااختیار بلدیاتی نظام موجود نہیں۔ پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے کہ اگر یہ ایک الگ ملک ہوتا تو دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا،اتنے وسیع علاقے کو ایک ہی دارالحکومت سے موثرانداز میں چلانا ممکن نہیں۔

اگر سرائیکی صوبہ بنایا جائے، بہاولپور کو اس کی تاریخی حیثیت کے مطابق الگ صوبہ بنایا جائے، پوٹھوہار میں الگ انتظامی اکائی قائم کی جائے یا خیبر پختونخوا ہ میں ہزارہ صوبہ بنایا جائے تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ بلوچستان میں بھی پشتون اور بلوچ آبادیوں کی اپنی الگ سیاسی ترجیحات ہیں اس لیے وہاں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ کا معاملہ نسبتاًمختلف ہے،میں سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کرتا، لیکن کراچی کو ایک مضبوط انتظامی یونٹ بنایا جانا چاہیے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ قدرتی طور پر جن لوگوں کو موجودہ نظام سے فائدہ پہنچ رہا ہے، وہ اس میں تبدیلی نہیں چاہیں گے۔ جن خاندانوں، جماعتوں یا شخصیات کے سیاسی اور مالی مفادات موجودہ ڈھانچے سے وابستہ ہیں، ان کے لیے اختیارات کی تقسیم قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ملک اور عوام کے لیے کیا بہتر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں