حافظ نعیم الرحمن 18

سات اگست سیاسی مزاحمت کا تاریخی دن، کراچی سے خیبر تک ملک جام ہوگا’حافظ نعیم الرحمن

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی ، حکومت کی ظالمانہ معاشی پالیسیوں، مہنگائی اور بے تحاشا ٹیکسوں کے خلاف 7 اگست کو ملک گیر احتجاج اور سڑکیں جام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ احتجاج ایک نکتہ آغاز ہے، ختم نہیں ہوگا۔ حکمران سدھر جائیں ورنہ عوامی طوفان ان کی گدی الٹ دے گا.

حکومت نے اپنے اخراجات کم نہ کیٔے اور عوام کو ریلیف نہ دیا تو اس احتجاج کو غیر معینہ مدت کے لیے طویل بھی کیا جا سکتا ہے۔منصورہ میں ایک اہم اور پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 7 اگست پرامن سیاسی مزاحمت کا تاریخی دن ہوگا۔ اس دن کراچی سے خیبر تک تمام شاہراہوں پر عوام کا سمندر نظر آئے گا۔ وکلا، اساتذہ، ڈاکٹرز، طلبہ اور مزدور سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر نکلیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم گولی اور گالی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ پرامن سیاسی جدوجہد ہمارا آئینی حق ہے۔

احتجاج کے دوران صرف ایمبولینسز کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس موقع پر نائب امیر لیاقت بلوچ ، قائمقام سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، ڈپٹی سیکریٹری رُسل خان بابر، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ بھی موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کشمیر میں نفرتوں کے بیج بونا شروع کر دیے ہیں۔ طاقت، گولی اور خون بہا کر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ ہم نے امن کے لیے جرگہ تشکیل دیا اور تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے تاکہ سیاسی اور پرامن حل نکالا جا سکے لیکن بدقسمتی سے حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ڈیوٹی پوری کر کے بیرون ملک منتقل ہو جانے والے حکمران کشمیریوں کے اس دکھ کو نہیں سمجھ سکتے۔

مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں جگہ ہمارے اپنے لوگوں کا خون بہہ رہا ہے جس سے کشمیر کازر کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے معاشی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ حکومت روزگار دینے کے بجائے بجلی، گیس، واسا کے بلوں اور پٹرول کے ذریعے عوام پر بم گرا رہی ہے۔ 335 روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ملک میں تین کروڑ موٹر سائیکل چلانے والے غریب طلبہ اور ملازمین ہیں جن سے سالانہ اربوں روپے ٹیکس اور لیوی کی مد میں نچوڑے جا رہے ہیں۔

پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک سال میں 1900 ارب روپے جبکہ عام انسان سے مجموعی طور پر ساڑھے 8 ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے اور اب پٹرول کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی قیمتوں کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسندِ اقتدار پر قابض حکمران فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی محض نورا کشتی میں مصروف ہیں۔ آزاد کشمیر میں مریم نواز اور بلاول بھٹو ایک دوسرے کے پول کھول رہے ہیں اور خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ن لیگ قومی انتخابات میں محض 17 سیٹیں جیتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی 7 سیٹیں تحفے میں دی گئیں اور ایم کیو ایم جس نے ایک پولنگ اسٹیشن نہیں جیتا اسے 15 سیٹیں دے کر عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا۔ اگر بلاول بھٹو سچے ہیں تو اپنے فارم 45 سامنے لائیں۔ چیٔرمین سینیٹ اور صدر مملکت بتائیں کہ وہ کس فارم کے تحت منتخب ہوئے؟ کراچی اور بلوچستان میں خریدو فروخت کر کے جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا۔پنجاب حکومت کی کارکردگی کو کاغذی اور نمائشی قرار دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب کو آئیڈیل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں 1 کروڑ 18 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ مریم نواز کی حکومت نے 11 ہزار سرکاری اسکول بیچ دئیے اور اب کالجز اور یونیورسٹیز کی باری ہے۔ اساتذہ، نرسز اور ڈاکٹرز سڑکوں پر دہائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کی صورتحال تباہ کن ہے جہاں حکومت امن و امان قائم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی اور سرحدی اضلاع میں روزانہ قتل و غارت ہو رہی ہے لیکن حکومت کے پاس کوئی حل نہیں۔بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ و مشرق وسطیٰ میں عبرتناک شکست کھا چکے ہیں اور عملی طور پر صیہونی لابیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ جماعت اسلامی اس مشکل گھڑی میں ایرانی قوم اور مظلوم مسلمان امت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے کوئی ڈیل نہیں کرتی۔ دفاعی ادارے اور سیاستدان اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں تو ملک کے حالات درست ہو سکتے ہیں۔ اگر حکمرانوں نے 11 ارب کا سرکاری جہاز اور 9 کروڑ کی گاڑیاں بیچ کر عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی کا یہ احتجاجی کارواں حکمرانوں کا محاسبہ کر کے ہی دم لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں