پروفیسر الفرید ظفر

زمین و ماحول دوستی، ہر شخص کو شجرکاری میں حصہ لینا ہوگا: پروفیسر الفرید ظفر

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے طلباء و طالبات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے ہوئے اپنے حلقہ اثر اور خاندان میں زمین کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کریں اور ماحولیاتی صحت کی انسانی زندگی میں ضرورت کے بارے شعور اجاگر کریں تاکہ لوگوں میں شجر کاری کا رحجان فروغ پا سکے اور زمین کو بنجر ہونے سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگائے جائیں تاکہ فضاء میں موجود زہریلی گیس، ٹریفک کے اژدہام کی وجہ سے سموگ اور آلودگی پر قابو پا کر لوگوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکے،وہ (تحفظ زمین اور انسانی صحت)کے موضوع پر میڈیکل طلبا کو لیکچر دے رہے تھے۔

پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ انسانی زندگی کی کرۃ ارض کی بقاء کے لئے زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کی غرض سے ہمیں انفرادی و اجتماعی اقدامات کرنا ہوں گے جس کے لئے بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ کوششیں نا گزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے تحفظ کے لئے ہر شخص کو شجر کاری میں حصہ لینا ہوگا جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی روکنے کے لئے سخت قانو ن سازی کی ضرورت ہے جس پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے۔

پروفیسرالفرید ظفر نے کہا کہ تفریحی مقامات،پہاڑی علاقوں میں ہوٹل اور دیگر تعمیراتی کاموں کی وجہ سے تفریحی جگہوں کا قدرتی حسن بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے تعمیراتی و ترقیاتی حوالے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ و پہاڑی علاقوں کے حسن کو بر قرار رکھنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنائیں تاکہ آنے والے برسوں میں زمین کا تحفظ یقینی ہو سکے اور انسانی زندگی کو خطرات سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم ارض صرف ایک رسمی کاروائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس دن عہد کرنا چاہیے کہ ہم سب انسانوں کے وسیع تر مفاد میں زمین کا تحفظ کرنے کے لئے ہر ممکن اور سنجیدگی کے ساتھ کوشش کریں گے تاکہ نسل انسانی کو بہتر ماحول اور صحت مند مستقبل دیا جا سکے۔

پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ صنعتی انقلاب،امیر ممالک کی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنگلات میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے جس کے ہمارے ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور آج پوری دنیا کو گلوبل وارمنگ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے گلیشئیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں اورفصلوں میں پانی کی کمی کاشدت سے سامنا ہے جس سے فوڈ سکیورٹی خدشات بھی لاحق ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے انسانی صحت پر مضر صحت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور نئی بیماریاں اور وبائی امراض سر اٹھا رہے ہیں، جنگلات کی کمی کے باعث جانوروں اور پرندوں کی لا تعداد اقسام بھی نا پید ہو چکی ہیں جس پر زمین پر موجود ہر طرح کی جاندار اشیاء کو عدم توازن کا سامنا ہے۔

پروفیسر الفرید ظفرنے میڈیا، سول سوسائٹی اور نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ شجر کاری کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اوراپنی سالگرہ منانے کے دن ایک ایک درخت بھی لگائیں تاکہ پاکستان سر سبز شاداب نظر آئے اور لوگ امراض سے محفوظ بھی رہ سکیں۔