mian-zahid-hussain.j

دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا سرمایہ کاری کے لئے خطرہ ہے،میاں زاہد حسین

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، چین کی جانب سے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری اور سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی ریفائنری لگانے کے فیصلے کے ساتھ ہی دہشت گردی کا شروع ہو جانا ایک پڑوسی ملک کا کام ہو سکتا ہے،دہشت گردوں کی جانب سے سیز فائر ختم کرنے کے اعلان کے بعدحکومت اورنئے آرمی چیف دہشت گردی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں تاکہ عوام اور ملکی معیشت کو درپیش خطرات میں کمی لائی جاسکے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے کئے گئے تمام امن معاہدے ناکام ہو چکے ہیں ،اس لئے اب بات چیت کے بجائے کاروائی کی جائے اور ملک کو اس مسئلے سے ہمیشہ کے لئے نجات دلوا دی جائے تاکہ عوام اور کاروباری برادری سکھ کا سانس لے سکے،اس بار دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے نئی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں بھاری فوج کے بھاری جانی اور مالی نقصانات کے باوجود اس ناسور کا علاج نہیں ہوسکا ہے اور انکی شکست کے اعلانات کے کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت کو سنگین چیلنجر درپیش ہیں جبکہ عالمی ادارے جائز اور مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے ہیں،سیلاب کے بعد پاکستان کو اس وقت تک نقصانات کے ازالے کی مد میں صرف 738 ملین ڈالر یہ مل سکت ہیں جبکہ وعدہ 3.4 ارب ڈالر کا تھا اور نقصانات 32 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہیں،عالمی برادری کے منفی رویہ سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے جبکہ ملک کے پاس اس سے نمٹنے کے وسائل نہیں ہیں،عالمی کساد بازاری اور پاکستان میں گیس کی قلت کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹس اور فارن ریمیٹنس میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے جس سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائرکم ترین سطح پر آ گئے ہیں،ان حالات میں دہشت گردی کا سر اٹھانا ملک کے لئے سنگین خطرہ ہے جس پر بھرپور ردعمل کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے حالات میں روس اور یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والے بحران کا ہاتھ کم اورماضی کی غلط معاشی پالیسیوں کا کردار زیادہ ہے۔ انہی وجوہات کی وجہ سے آئی ایم ایف بار بار کی درخواستوں کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے اور اس اہم عالمی ادارے اور پاکستان کے مابین خلیج بڑھتی جا رہی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔