سید خورشید شاہ 16

حکومتی وزیر کا سسٹم فیل ہونے کا بیان سنجیدہ معاملہ ہے، ملک میں سیاسی و معاشی استحکام ضروری ہے، خورشید شاہ

سکھر(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومتی وزیر کی جانب سے سسٹم فیل ہونے کا بیان انتہائی اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے، وفاقی وزیر کابینہ کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے اس نوعیت کا بیان تشویش کا باعث بنتا ہے۔ ملک کو موجودہ غیر یقینی صورتحال سے نکالنے کے لیے سیاسی اور معاشی استحکام ناگزیر ہے.

سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ایک حکومتی وزیر کی جانب سے سسٹم فیل ہونے کی بات سامنے آنے کے بعد ہمیں بھی صورتحال پر تشویش ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر حکومت اور کابینہ کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی جانب سے سسٹم فیل ہونے کی بات کو معمولی نہیں سمجھا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ خطہ اس وقت جنگ کی صورتحال کے باعث مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ہمارے پڑوس میں جنگ جاری ہے۔ زمینی جنگ کے بجائے فضائی جنگ جاری ہونے کے باعث نقصانات ہورہے ہیں، جس کے اثرات پورے خطے کی صورتحال پر مرتب ہورہے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی معاشی پوزیشن یقیناً مشکل ہے، تاہم پاکستان اب بھی بہتر پوزیشن میں ہے۔

مشکل معاشی حالات کے باوجود پاکستان پر دنیا کا اعتماد بحال ہوا ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ملکی معاشی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے بعد پاکستان پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے۔ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے میں کچھ وقت ضرور لگے گا، تاہم ہمیں موجودہ حالات کا حوصلے اور دانش مندی سے سامنا کرنا ہوگا۔آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ انتخابات تین حصوں میں کرانا ہی وہاں دھاندلی کی ابتدا تھی۔ آزاد کشمیر کی آبادی زیادہ سے زیادہ 70 سے 80 لاکھ ہے، جبکہ کراچی کی آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حیدرآباد کی آبادی بھی 50 سے 60 لاکھ جبکہ سکھر کی آبادی 15 لاکھ سے زائد ہے۔انہوں نے پنجاب کی سیاسی و ترقیاتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے وزارتِ اعلیٰ کے دور میں پنجاب میں بہت کام کیا ہے۔

نواز شریف نے بھی پنجاب کی ترقی کے لیے بہت کام کیا، تاہم ان کی خدمات کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔میڈیا کے کردار کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اگر میڈیا حقائق سامنے لانا چاہے تو سچ عوام کے سامنے آتا ہے، بصورت دیگر حقیقت دب جاتی ہے۔ ملک کے لیے غیر یقینی صورتحال موزوں نہیں، سیاسی اور معاشی استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے۔بعد ازاں سید خورشید احمد شاہ نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکبر سیال کے ہمراہ ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی خدمات کا افتتاح کیا۔افتتاح کے موقع پر ایس آئی سی وی ڈی کے سی او ڈاکٹر محمد موسیٰ میمن، ڈاکٹر ساجد علی شیخ، ڈاکٹر جاوید شیخ، ڈاکٹر ہاشم کلوڑ، ایس آئی سی وی ڈی سکھر کے ایڈمنسٹریٹر بھرت کمار سمیت دیگر افسران اور ڈاکٹرز موجود تھے۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں الیکٹروفزیالوجی کی جدید سہولت علاقے کی اہم ضرورت تھی۔ اس سہولت کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور دیگر امراض کے علاج کے لیے کراچی اور لاہور کا سفر کرنا پڑتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں جدید کیتھیٹر ابلیشن اور کارڈیک ڈیوائس امپلانٹیشن کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن سے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کے شکار مریضوں کو جدید علاج اپنے علاقے کے قریب دستیاب ہوگا۔خورشید شاہ نے بتایا کہ نجی اسپتالوں میں الیکٹروفزیالوجی کے علاج پر 7 سے 8 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، جبکہ یہی سہولت سرکاری سطح پر تقریباً 2 سے سوا 2 لاکھ روپے میں فراہم کی جاسکتی ہے۔

تاہم ایس آئی سی وی ڈی میں یہ جدید سہولت مریضوں کو مفت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جدید کارڈیک سہولت سے شمالی سندھ سمیت پنجاب اور بلوچستان سے آنے والے مریض بھی مستفید ہوں گے۔ دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے علاج کے لیے اب مریضوں کو دور دراز شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ایس آئی سی وی ڈی سکھر خطے میں جدید امراضِ قلب کے علاج کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

جدید طبی سہولیات کی سکھر میں فراہمی سے نہ صرف مریضوں کو بروقت علاج ملے گا بلکہ ان کے علاج کے لیے کراچی اور دیگر بڑے شہروں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس آئی سی وی ڈی پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکبر سیال نے کہا کہ ادارے کا مقصد جدید اور تخصصی امراضِ قلب کا علاج مریضوں کے گھروں کے قریب فراہم کرنا ہے۔ ایس آئی سی وی ڈی اپنے مختلف مراکز میں جدید طبی سہولیات کو مسلسل وسعت دے رہا ہے تاکہ سندھ کے ساتھ پنجاب اور بلوچستان کے مریض بھی مستفید ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ سکھر میں کارڈیک الیکٹروفزیالوجی خدمات کا آغاز اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔

نئی سہولیات کے ذریعے دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے مریضوں کو جدید تشخیص اور علاج کی سہولت میسر آئے گی جبکہ کیتھیٹر ابلیشن اور کارڈیک ڈیوائس امپلانٹیشن جیسی سہولیات کے لیے مریضوں کو دور دراز شہروں کا سفر کم کرنا پڑے گا۔سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ سکھر میں کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی اسپتال کے قیام کی بھی کوشش کی گئی ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ شمالی سندھ اور ملحقہ علاقوں کے مریضوں کو علاج کی جدید سہولیات ان کے اپنے شہر اور علاقے کے قریب دستیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جدید، معیاری اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی عوامی خدمت کا اہم حصہ ہے۔ عوام کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا سفر نہ کرنا پڑے، اس مقصد کے لیے سکھر اور دیگر علاقوں میں جدید طبی مراکز اور تخصصی علاج کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ ایس آئی سی وی ڈی کی جانب سے جدید امراضِ قلب کے علاج کی سہولیات سکھر میں فراہم کرنا خوش آئند اقدام ہے اور اس سے خطے کے ہزاروں مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں