اخلاق علی خان

حقوق نسواں انسانی حقوق سے جدا نہیں! خواتین کی تولیدی صحت کی سہولیات بہتر بنانا وقت کی ضرورت

تحریر: اخلاق علی خان

حقوق نسواں انسانی حقوق کی عمارت کا سب سے اہم ستون ہے اور انہیں انسانی حقوق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تقریباً نصف آبادی کے حقوق کو نظر انداز کر کے انسانی حقوق کی عمارت کو کھڑا رکھنا نا ممکن ہے۔ اگر با نظر غائر دیکھا جائے تو دین اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار نظر آتا ہے جس نے عورت کو زندہ رہنے کا حق دلوایا۔دین اسلام سے پہلے بہت سے قبائل میں رواج تھا کہ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا اسلام نے اس غیر انسانی اور قبیح رسم کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ عورت کا احترام و اکرام کرنا سکھایا۔

اللّہ کے نبی حضور ﷺ اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے آنے پر کھڑے ہوکر انکا استقبال کرتے اور بیٹھنے کیلئے اپنی چادر بچھا دیتے تھے یہ پیغام تھا پوری انسانیت کیلئے کہ خواتین کا کس طرح احترام کرنا ہے۔ عورت کو وراثتی جائیداد، مال و دولت میں بھی حق اسلام نے دیا اور قرآن میں باقاعدہ بیٹی کا حصہ مقرر کردیا۔آج بھی بہت سے غیر مسلم معاشرے عورت کا وراثت میں حق تسلیم نہیں کرتے۔ اس نا انصافی کو اسلام نے ختم کرکے والد کی جائیداد میں بیٹی کو حقدار ٹہرایا۔ اسی طرح دین اسلام نے شادی کیلئے جیون ساتھی کے انتخاب میں بھی لڑکی کو اپنی پسند کے اظہار کا حق دیا ہے۔اسلام میں عورت کو معاشی طور پر خود مختاری اور با اختیار بنایا گیا ہے اس کی واضح مثال خود حضور ﷺ کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ ؓکی ہے جو مکہ معظمہ کی دولت مند بزنس وومن تھیں جنکا مال تجارت حضور ﷺ خود تجارتی قافلوں کے ساتھ لیکر دیگر علاقوں میں لیکر جاتے تھے۔اور حضرت خدیجہ ؓنے اسلام کی ترویج کیلئے اپنی دولت سے حضور ﷺ کی مدد کی۔ خواتین کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور نگہداشت کو حضور ﷺ نے اس قدر اہمیت دی کہ غزوہ بدر کے وقت حضرت عثمان ؓکی اہلیہ شدید بیمار ہونے کی وجہ سے حضور ﷺ نے حضرت عثمان کو گھر میں رک کر انکی دیکھ بھال کرنے کی ہدائت کی اور غزوہ بدر میں فتح کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عثمان رض کو مال غنیمت میں جنگ میں شریک مجاہدین کے برابر حصہ دیا۔

یہ وہ چند مثالیں ہیں جو خواتین کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور آج کے جدید دور میں خواتین کی حق تلفی روکنے کیلئے ضروری تھیں۔ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے جہاں انکو تعلیم و تربیت، معاشی ترقی اور انہیں با اختیار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے وہیں خواتین کو تولیدی صحت (ری پروڈکٹو ہیلتھ) کی سہولیات اور کنبہ سازی میں انکی رائے کے احترام کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ہمارے ملک کو توانائی، آبی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، فوڈ سیکورٹی کے خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں، ہاؤسنگ سیکٹر ؤسنگ سیکٹر سخت دباؤ کا شکار ہے، کھیت اور جنگلات سکڑتے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پورے خطہ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ خوراک کی کمی، غربت کی وجہ سے بچے اور خواتین خون کی کمی انیمیا کا شکار ہیں، بچے پستہ قد ہیں نشو و نما نہیں ہورہی،ہر سال ہزاروں حاملہ خواتین دوران حمل و زچگی پیچیدگیوں کا شکار ہوکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں ہزاروں نو مولود لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ دیہی خواتین کی اکثریت کو لیڈی ڈاکٹر یا سکلڈ برتھ اتینڈنٹ تک رسائی نہیں ہے اور وہ روایتی دایہ کے تجربات کا شکار ہوتی ہیں اسکی ایک بری وجہ گھر کے مرد حضرات کی سرد مہری اور عدم توجہی ہے۔
ہم ایک مردانہ تسلط (male dominant) والا معاشرہ ہیں۔ خواتین کی تولیدی صحت، بچوں کی پیدائش میں وقفہ (کنبہ سازی) جیسے اہم معاملات میں خواتین کو بطور اسٹیک ہولڈر نہیں لیا جاتا لیکن اب ہمیں اپنی سوچ، انداز فکر اور رسم و رواج کو بدلنا ہوگا اور مذکورہ مسائل کے حل کیلئے خواتین سے مشاورت، انکی چوائس کو احترام دینا ہوگا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے سرکاری و نیم سرکاری اداروں اور سماجی تنظیموں کو مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے مشترکہ کاوشوں میں تیزی لانا ہو گی تاکہ معاشرہ میں بدلاؤ لایا جا سکے۔تولیدی صحت (ری پروڈکٹو ہیلتھ)کی سہولیات کو ریموٹ
ایریا ز اور دیہات تک پہنچانا ضروری ہے۔

انسانی حقوق کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کیلئے پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ (PPIF) جو پبلک سیکٹر کا نان پرافٹ ایبل ادارہ ہے، نے خواتین کی تولیدی صحت کی سہولیات میں اضافہ، خاندانی منصوبہ بندی جیسے ایشوز بارے آگاہی اور شعور بیدار کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، یہ ادارہ بین الاقوامی اور مقامی اداروں، ڈونر ایجنسیوں اور خواتین کی بہبود کیلئے سروسز فراہم کرنے والی NGOs کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ کر رہا جس سے نئے اقدامات لینے کیلئے نئی راہیں کھل رہی ہیں اور پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج نکل رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ PPIF نے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (IPH) کے تعاون سے خواتین کے حقوق خصو صا تولیدی صحت بارے ایڈ ووکیسی سیمینار کا اہتمام انعقاد کیا جس میں سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ سمیرا صمد، PPIF کے چیف ایگزیکٹو طلحہ حسین فیصل، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ آئی پی ایچ لیفٹیننٹ جنرل (ر)خالد مقبول، ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر،UNFPAمیری سٹوپس سوسائٹی، یو نسف اور دیگر تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور خواتین کے حقوق، تولیدی صحت، فیملی پلاننگ اور اس حوالہ سے در پیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سہیل ثقلین جو قبل ازیں محکمہ صحت پنجاب میں اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں جنہوں نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں بھی ممبر ہیلتھ کام کیا ہے، وہ اب PPIF سے وابسطہ ہیں اور خواتین کی تولیدی صحت کی سہولیات اور فیملی پلاننگ کے حوالہ سے نئے جذبہ کے ساتھ کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں انکا کہنا تھا کہ PPIF رے پروڈکٹو ہیلتھ اور فیملی پلاننگ کو فروغ دینے کیلئے دیگر اداروں، میڈیکل یونیورسٹیز، کالجز کے ساتھ کام کر رہا ہے اور جلد ہی مذکورہ اداروں کے شعبہ ٹیلی میڈیسن میں تولیدی صحت کا بھی الگ ڈیسک کام کا آغاز کردیگا جس خواتین گھر بیٹھے اپنے ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کر سکیں گی۔

خالد مقبول کا کہنا تھا کہ خواتین کو حقوق دلوانے، خواتین کی صحت اور وسائل کے مطابق خاندان کی تشکیل کیلئے مردوں کی تربیت، کونسلنگ بہت ضروری ہے تاکہ سوچ اور رویوں میں تبدیلی ائے۔ سیکرٹری محکمہ وومن ڈویلپمنٹ پنجاب نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانے اور انہیں معاشی استحکام دینے کیلئے انکا محکمہ دیگر اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہا ہے اور اس میں بہت کامیابی ہوئی ہے۔ طلحہ حسین فیصل کا کہنا تھا کہ ppif نے خواتین کی صحت اور فیملی پلاننگ کے حوالہ سے بہت سے اداروں کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ کا آغاز کیا ہے اور مقصد کے حصول کیلئے مربوط اقدامات کئے جا رہے ہیں اور غیر سرکاری سماجی تنظیموں کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
اخلاق علی خان
ڈین آئی پی ایچ ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ خواتین کی مجموئی فلاح و بہبود کے ساتھ ری پروڈکٹو ہیلتھ کی سہولیات دور دراز علاقوں تک پہنچانا ضروری ہے کیونکہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے جو صحت مند معاشرہ کی تشکیل کی بنیاد ہے۔ڈاکٹر زرفشاں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسٹیٹیوٹ خواتین کے صحت سے متعلق مسائل کے حل کیلئے تمام اداروں اور محکموں سے تعاون جاری رکھے گا۔ پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ جس تیز رفتاری سے سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہا ہے نیز طبی اداروں سے ملکر ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی انوویشن متعارف کرا رہا ہے اس سے یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ آنے والے برسوں میں خواتین کے حقوق بارے عوامی شعور اور انڈرسٹنڈنگ میں بہتری ائے گی، خواتین کو تولیدی صحت کی سہولیات ریموٹ ایریا ز اور دیہات میں با آسانی دستیاب ہوں گی، انکو کی رائے کو کنبہ سازی میں اہمیت ملے گی اور خاندان کے سربراہ اپنی فیملی کو توسیع دیتے وقت ” اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا ” کے محاورہ پر عمل کرتے نظر آئیں گے۔
٭٭٭٭