کراچی (رپورٹنگ آن لائن) میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے صدر سید ذوالفقارشاہ نے کہا ہے کہ تنخواہوں پینشن میں ہونے والا گزشتہ اور موجودہ اضافہ ادا کرنا متعلقہ ٹاونز اور کے ایم سی کی اولین زمہ داری ہے۔فنڈز کا بندوبست کرنا ملازمین،یونین کی زمہ داری نہیں ہے اس سلسلے میں اوذیڈ ٹی گرانٹ کے علاوہ پراپرٹی ٹیکس،لوکل ٹیکسز،چارجڈ پارکنگ،انکروجمنٹ چالان،سڑک،فٹ پاتھ کی کٹنگ سمیت ایگر ذرائع آمدنی سے اگر ٹاون کے ملازمین کی تنخواہوں کے فنڈ کی کمی ہے تو وہاں سے دور کی جاسکتی ہے۔
لیکن ملازمین کو اضافہ شدہ تنخواہ کی ادائیگی کو روکا نہیں جاسکتا۔کیونکہ تنخواہ فنانس رول میں اولین ترجیح رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کے ایم سی آفیسرزآفیشلز ایکشن کمیٹی کے وفدنعیم جمال،آصف خان،جہانگیر شیخ،ناظم علی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔جبکہ لیاری ٹاون کے وفد نے اسلم بزنجو،عارف خان،اللہ رکھا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 2026 کے ریٹائرمنٹ کیسز نہ لینا توہین عدالت ہے۔کیسز مکمل کرکے ریجنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے توسط سے کے ایم سی کو بھیجے جائیں عدم وصولی پر کے ایم سی انتظامیہ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔
اسی طرح یونائیٹڈ ورکرز یونین ایسٹ کے جنرل سیکریٹری الیاس سندھ، امجد غوری،الیاس مٹو ،شیر مسیح نے مسیحی ملازمین کو آئندہ ماہ مقدس مریم آباد میلے اورسیالکوٹ کنونیشن میں سرکاری خرچ پربھیجنے کیلیے تیاریوں کیلیے متعلقہ ٹاونز سے خط وکتابت کرنے،اس ماہ اضافہ کردہ تنخواہوں کی ادائیگی کرنے اور 2026 کے ٹی ایم سیز ریٹائرمنٹ کیسزلینے پر بات چیت کی۔سید ذوالفقارشاہ نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ یہ مسائل حل کروائے جائیں۔









