بورڈ میں اہم ذمہ داریاں یونس خان اور محمد حفیظ کی منتظر ہیں، حکام سرفراز احمد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، ایسے میں سابق بیٹر کو دورہ ویسٹ انڈیز سے قبل ہیڈکوچ مقرر کرنے کی تجویز سامنے آ گئی،اگر سرفراز کو مزید مواقع دیے گئے تو یونس کوکوئی اور کام مل سکتا ہے، سابق آل رائونڈر کی بھی حکام سے ملاقات ہوئی،وہ خدمات سرانجام دینے پرآمادہ ہیں، ان کی سلیکشن کمیٹی یا بطور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ شمولیت متوقع ہے،ادھر شان مسعود کی کپتانی بچنا دشوار ہو گیا،انھیں ازخود مستعفی ہونے کا پیغام دیا جا چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کیلیے سابق اسٹارز کو ذمہ داریاں سونپنے پر غور کر رہا ہے، اس حوالے سے اعلیٰ حکام کی گزشتہ کچھ دنوں میں کئی اہم سابق کھلاڑیوں سے میٹنگز ہو چکی ہیں، دورئہ بنگلہ دیش کے دونوں ٹیسٹ میچز میں ٹیم کو بدترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا،اس دوران سرفراز احمد ہیڈ کوچ تھے، ذرائع کے مطابق بورڈ حکام ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، اگر مزید مواقع دینے کا فیصلہ نہ ہوا تو یونس خان یہ عہدہ سنبھال سکتے ہیں،بصورت دیگر سابق کپتان کو پی سی بی میں کوئی اور ذمہ داری سونپنی جا سکتی ہے۔
سرفراز کے ساتھ بھی بورڈ کا معاہدہ ہے، اگر ان سے کوچ کی پوسٹ واپس لی گئی تو کہیں اور ایڈجسٹ کر دیا جائے گا، اسی طرح سابق کپتان محمد حفیظ کی بھی پی سی بی حکام سے اہم ملاقات ہوئی ہے، 2024 کے دورئہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بطور ٹیم ڈائریکٹر انھوں نے خدمات سرانجام دی تھیں۔
چیئرمین کی تبدیلی کے بعد وہ عہدے پر برقرار نہ رہ سکے تھے،اس کے بعد ان کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے، اب حفیظ نے ملکی کرکٹ کی بہتری کیلیے کام کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، البتہ اس دوران مکمل اتھارٹی بھی چاہتے ہیں، حفیظ نے اپنے مختصر دور میں قومی ٹیم میں بعض اہم تبدیلیاں کی تھیں تاہم اپنے پلانز کو عملی جامہ پہنانے کا وقت اور موقع نہ مل سکا، انھیں سلیکشن کمیٹی یا ڈایریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کا کام مل سکتا ہے، اس کا فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
اس حوالے سے رابطے پر محمدحفیظ نے ملاقات کی تصدیق کر دی البتہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا، ان کے مطابق بورڈ حکام کی طرح وہ بھی پاکستان کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں۔ دوسری جانب شان مسعود کی قیادت بچنا بھی بیحد دشوار ہے، بنگلہ دیش سے سیریز میں ناکامی کے بعد انھیں مستعفی ہونے کا کہا جا چکا، بیٹر نے حکام سے دورئہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں مزید مواقع دینے کی درخواست کی ہے۔
بورڈ کے پاس بطور متبادل محدود آپشنز موجود ہیں، سلمان علی آغا کی انفرادی کارکردگی اچھی نہیں، بابر اعظم کو کئی بار مواقع دیے جا چکے مگر وہ ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن نہ کر سکے،اس حوالے سے حکام کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ویسٹ انڈیز سے 2 ٹیسٹ کی سیریز 25 جولائی کو شروع ہوگی،ٹیم 19اگست کو انگلینڈ کیخلاف 3 میچز کی سیریز کا آغاز کرے گی۔









