مریدکے( رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی ،ریسرچ اینڈ انڈسٹری رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم کی طرح پی ٹی آئی قیادت کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ،پی ٹی آئی قیادت روزانہ اسمبلی میں ہمارے ساتھ بیٹھی ہوتی ہے،وزیر اعظم شہباز شریف خود چار مرتبہ براہ راست پی ٹی آئی کو ملک و قوم کی خاطر مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں ،
پی ٹی آئی کا ایجنڈا پاکستان اور اداروں کو کمزور کرنا ہے ،لگتا ہے پی ٹی آئی کے خمیر میں ہی مذاکرات کرنا شامل نہیں۔سٹی پریس کلب مریدکے میں اپنی 77 ویں سالگرہ کاکیک کاٹنے کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ کسی ملک کی ترقی خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ وہاں امن کا تسلسل ہو، سب نے دیکھا پاکستان آج دنیا میں ایک عظیم ملک بن کر کھڑا ہے ،دنیا کے امن خوشحالی میں پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت حاصل کرچکا ہے ،وزیر اعظم نے لندن اسٹاک ایکسچینج میں افتتاح کیا،یہ پاکستان کی بہت بڑی عزت ہے ،یہ پاکستان کیلئے اکنامک انڈیکیٹر ہے ،دنیا ہماری اکنامک کامیابیوں کا اعتراد کررہی ہے ، یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے ،
دو سالوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوئی ،معاشی اشاریے بہتر ہوئے ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی دن رات کی کوششوں سے جب بھی امن ہوتا ہے ملک خوشحالی کی طرف چلنے لگتا ہے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی پی ٹی آئی پھر انتشار بدامنی شور شرابہ کی فضا پیدا کردیتی ہے ، اس کی پاکستان اور اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش ٹھیک نہیں ہے ،یہ دشمن کاایجنڈا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ حکومت راہ راست پر نہ آئی تو گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی آپشن موجود ہیں ،خیبر پختونخواہ دہشتگردوں کی سرپرست بنی ہوئی ہے ،بانی پی ٹی آئی عمران خان پانچ سو دہشتگردوں کو افغانستان سے لے کر آئے،کچھ کو جیلوں سے آزاد کرکے پاکستان میں بسایا آج اسی کی سزا دہشتگردی کی صورت میں خیبر پختونخواہ کی عوام بھگت رہی ہے ،
خیبر پختونخواہ حکومت ان دہشتگردوں کے لئے نرم رویہ رکھتی ہے ،پی ٹی آئی کی حرکتیں پہلے بھی سنبھالیں آپ دیکھیں گے اب بھی سنبھالیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ معقول نہیں ہے حالانکہ اسے خلیج جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کا علم ہے ،ساری دنیا اس سے متاثر ہورہی ہے ،وزیر اعظم دن رات کوشاں ہیں کہ مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے ،خلیج کی جنگ کی وجہ سے پیٹرول ساری دنیا میں مہنگا ہوا ہے اسی کی وجہ سے مہنگائی ہے ،آج بھی پاکستان میں پیٹرول دنیا کے مقابلے میں بہت سستا ہے ۔









