عبدالعلیم خان 7

این ایچ اے کی آمدن 160ارب روپے تک بڑھانے کا ہدف، اضافی رقم سڑکوں کی تعمیر پر خرچ ہوگی’ عبدالعلیم خان

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی آمدن 66ارب روپے سے بڑھاکر رواں سال کے لیے 160ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ، اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد 50ارب روپے مقرر کرد ی گئی ہے تاکہ ٹول ٹیکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن ملک بھر میں نئی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ کی جائے۔

وہ لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی ، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران اور سینئر ممبران نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی، لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں ابوذر شاد، سابق نائب صدر میاں زاہد جاوید، امجد چوہدری ،ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین حامد رضا، زمان نصیب، شہزاد محمود، محمد اعجاز غوری، ساحر مشتاق، نوید ایوب، محمد یاسین، مردان علی زیدی، محمد علی، عامر عطا باری، ہما جنید،نائلہ ندیم ، چوہدری ذوالفقار علی، علی رضا، عماد محمود، طارق محمود اور سید یوسف جمیل بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر مواصلات نے نے 2024 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں منصوبوں کے لیے 224 ارب روپے مختص کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے لیے ہے۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی اور صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے وزیراعظم کو تجاویز پیش کر چکا ہوں۔ بینکوں کو چاہیے کہ زیادہ شرح سود کے سبب متاثر ہونے والے صنعت کاروں کے قرضوں کی ری شیڈولنگ پر غور کریں تاکہ بند صنعتی یونٹس کی بحالی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے مواقع پیدا ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ 25 فیصد شرح سود پر قرض لے کر کاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو سہولتیں فراہم کرنا ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان مجوزہ رابطہ منصوبے کے ذریعے فاصلہ تقریباً 380 کلومیٹر سے کم کرکے 280 کلومیٹر تک لانے پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے سے گوجرانوالہ، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں اور جہلم سمیت مختلف علاقوں کو بہتر سفری سہولتیں اور رابطہ میسر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد موٹروے کے منصوبے کو ممکن بنانے میں ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن نے اہم کردار ادا کیا ورنہ اس منصوبے میں مزید کئی سال تاخیر ہوسکتی تھی۔ انہوں نے سیالکوٹ موٹروے کو چار سے چھ لین تک وسعت دینے کے منصوبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ لاہور سے خیبر تک موٹروے منصوبے کی تکمیل کا ہدف 2027 مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بلوچستان ایکسپریس وے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد دور دراز علاقوں میں رابطہ بہتر بنانا اور خطرناک سڑکوں پر حادثات کے خطرات کم کرنا ہے، جبکہ منصوبے کی تکمیل اگلے سال تک متوقع ہے۔ انہوں نے پشاور ناردرن بائی پاس کی تکمیل اگلے ماہ مکمل ہونے کی امید ظاہر کی جس سے شہر میں جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور موٹروے سے رابطہ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چینی سامان کو گوادر اور کراچی کے راستے ایران اور دیگر علاقائی منڈیوں تک پہنچانے کے وسیع مواقع رکھتا ہے۔ بہتر سڑکوں اور تجارتی راہداریوں سے پاکستان کی علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں اہمیت بڑھ سکتی ہے۔

ایکسل لوڈ کی پابندی پر زور دیتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ مقررہ وزن سے زیادہ سامان لادنے سے سڑکوں کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے ایکسل لوڈ کی حدود پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے سڑکوں کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں گاڑیوں کی طلب اور کاروباری مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پنجاب میں کاروبار سے متعلق قوانین میں ایسی ترامیم کی جائیں جو تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری خلاف ورزیوں کی صورت میں جہاں مناسب ہو، فوری ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے پہلے نوٹس، جرمانے اور اصلاح کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ لاہور چیمبر نے تین قوانین میں ترامیم کے لیے کام کیا ہے اور اپنی تجاویز اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کو پیش کی ہیں۔

انہوں نے پنجاب ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری ایکٹ کو ریئل اسٹیٹ اور رئیلٹرز برادری کی مشاورت سے بہتر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ اس شعبے میں کمیشن کو باقاعدہ بنانے کے لیے ڈویلپرز، رئیلٹرز، حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں پر مشتمل شفاف نظام قائم کیا جانا چاہیے۔علی حسام اصغر نے وفاقی وزیر سے مختلف ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے مسائل، خصوصاً ٹرانسپورٹ، ٹول ٹیکس اور کاروباری ضوابط سے متعلق معاملات حل کرانے میں تعاون کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ٹول ٹیکس میں اضافے سے پہلے بڑے چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کرنی چاہیے، کیونکہ ٹول ٹیکس بڑھنے سے مال برداری کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا اثر کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔انہوں نے برآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل پر بات چیت کے لیے چیئرمین این ایچ اے اور موٹروے پولیس کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی بھی درخواست کی۔

لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ صنعتی اسٹیٹس اور کاروباری مراکز تک معیاری سڑکوں اور بہترین روڈ انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ صنعتوں، تجارت اور مال برداری کو سہولت مل سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس میں اضافے سمیت کاروباری برادری کو متاثر کرنے والے دیگر اقدامات چیمبرز آف کامرس کی مشاورت سے کیے جائیں۔اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی، لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں ابوذر شاد، سابق نائب صدر میاں زاہد جاوید، امجد چوہدری اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین حامد رضا، زمان نصیب، شہزاد محمود، محمد اعجاز غوری، ساحر مشتاق، نوید ایوب، محمد یاسین، مردان علی زیدی، محمد علی، عامر عطا باری، ہما جنید، چوہدری ذوالفقار علی، علی رضا، نائلہ ندیم، عماد محمود، طارق محمود اور سید یوسف جمیل بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں