ندیم 19

آزاد کشمیر میں الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آرہا ہے، ندیم افضل چن

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آ رہا ہے۔

-ندیم افضل چن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے آج 15 سے زائد درخواستیں دائر کر دی ہیں، کئی حلقوں میں پولنگ سٹاف اور سامان پہنچ ہی نہیں سکا، ہمارے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ بوتھ سے نکالا گیا ہے، ایک پارٹی کو اقتدار دلانے کے لیے یہ کیا جا رہا ہے، ہماری شکایات پر ن لیگ کا جواب نہیں آیا۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ کل تک امن و امان کی صورت حال ٹھیک تھی، پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط تھی، اس وقت آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک ہوگیا ہے، اس الیکشن کو صاف اور شفاف ماننا بہت مشکل ہو جائے گا، آدھا وقت گزر گیا لیکن ابھی تک کئی حلقوں میں پولنگ سٹاف نہیں پہنچا۔

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر شکایات کا ازالہ نہ ہوا تو الیکشن کے نتائج کو کوئی نہیں مانے گا، پہلے فیز کے بعد پارٹی میں بائیکاٹ کی بات ہو رہی تھی، ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں، قیادت نے دانشمندانہ فیصلہ کیا، ابھی اطلاع آئی ہے کہ لطیف اکبر صاحب پر حملہ ہوا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے، آپ ہوش کے ناخن لیں ورنہ ہم ان انتخابات کی توثیق نہیں کرسکیں گے، آزاد کشمیر کے انتخابات پر پوری دنیا کی نظر ہے، اس انتخابی عمل کو درست کیا جائے۔

ندیم افضل چن نے بتایا کہ پیپلز پارٹی میں دوسرے اور تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ کی مضبوط رائے تھی، پارٹی قیادت نے بائیکاٹ کو مسترد کیا، ہم سیٹیں جیتنے کے لیے الیکشن نہیں لڑ رہے، ہم انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہتے، ہم بیلٹ سے تبدیلی چاہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آ رہا ہے، ہم کسی صورت اس الیکشن کو آزادانہ اور شفاف نہیں مانیں گے، پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جو الیکشن کو سپورٹ کر رہی تھی، فرسٹ فیز میں بھی دھاندلی کی گئی، بعض پولنگ سٹیشنز پر بہت زیادہ پولنگ دکھائی گئی، ان کو پتہ تھا پیپلز پارٹی جیت رہی ہے، اس لیے مسائل پیدا کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں