حسن مرتضیٰ 16

آزاد کشمیر انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، الیکشن کمیشن سہولت کار بنا رہا’حسن مرتضیٰ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دن دیہاڑے جس دیدہ دلیری سے انتخابی ڈکیتی کی گئی اسکی مثال نہی ملتی،میر پور میں آزاد کشمیرالیکشن کمشن کا کردار سی سی ڈی والا تھا،وہی فیصلہ کرتا تھا کہ کسی کو ہاف فرائی اور کسی کو فل فرائی کر دو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ،رانا جواد،احسن رضوی اور میاں ایوب کیساتھ پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر راو بابر جمیل، ملک عمران کھوکھر اور فاطمہ۔ملہی بھی موجود تھے۔حسن مرتضیٰ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی فتح پر کہیں شادیانے اور کہیں دھاندلی کی باتیں ہو رہی ہیں،ہمارا ماتھا اسوقت ہی ٹھنکا تھا جب وہاں مرحلہ وار الیکشن کا اعلان کیا گیا مگر ہم نے اسے معروضی حالات میں تسلیم کیا۔

الیکشن کمشن کا کردار وہاں کھل کر سامنے آیا ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ چودھری یاسین دو حلقوں سے لڑ رہے تھے۔چڑھوئی میں 30پولنگ سٹیشنوں کو یرغمال بنایا گیا۔جاوید بڈھانوی والی نشست پر ہمارا کارکن قتل کیا گیا،پولنگ والے دن مختار یونس کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا،چودھری اخلاق اور چودھری پرویز اشرف کے حلقوں میں ڈاکے ڈالے گئے،پولنگ سٹیشنوں پر ووٹوں کو آگ لگائی گئی۔پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو رونے کا کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

کبھی آپ مرحلہ وار الیکشن کرا کے ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں،الیکشن کمشن وہاں کمشن ایجنٹ کا کردار اور سہولت کاری کرتا رہا،آپ نے دھاندلی میں اہم کردار ادا کیا،کشمیر میں بات ووٹ کے تقدس سے نکل کر جان بچانے پر آ گئی ہے۔ہم نے یہ سب آپ کو بتایا مگر آپکے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔الیکشن کمشن کا کردارنوٹس ملیا تے کجھ وی نہیں ہلیا جیسا رہا۔حسن مرتضی نے کہا کہ کیسے مان لیں کہ آپ پنجاب میں مہاجرین کی نشستوں پر شفافیت دکھائیں گے؟۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس کشمیر میں جا کر ”مجھے وزیر اعظم بنا دیا جائے ”کا مطالبہ کیا گیا اس کشمیر کو 74 میں بھٹو نے پارلیمانی سیاست کا حق دیا تھا،

اسی وجہ سے بلاول بھٹو حق ملکیت، حق حاکمیت اور حق روز گار کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی 6ماہ حکومت تھی جس میں 35میں سے 33مطالبات مانے،دو مطالبات میں وفاق ملوث تھا یا آئینی ترامیم درکار تھیں۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ ایک طرف حکومت میں آپ اور دوسری طرف شہادتوں میں ہم ہوتے ہیں،تاریخ میں لکھاری لکھے گا کہ مارنے اور مرنے والا کون تھا؟۔ریاست وہاں ذرا پیچھے ہٹ جاتی تو شاید یہ مسائل حل ہو جاتے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ٹروتھ کمشن کے مطالبے کو مسترد کر دیں۔حسن مرتضی نے موقف اختیار کیا کہ آپ کے غلط فیصلوں کیوجہ سے ساری قوم کیپسٹی چارجز بھر رہی ہے،آپ نے بونجی ڈیم کا منصوبہ ختم کر کے ساہیوال کے زرعی رقبے پر کول پاور پلانٹ لگا دیا،پیٹرول کی روزانہ قیمت بڑھا کر عوام کو خوار کیا جا رہا ہے،آپ غلط فیصلے کرتے ہیں تو ہم آپ پر تنقید کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں کہ دکھانے کو کچھ نہیں،سارا کشمیر سندھ جا کر علاج کراتا ہے،سندھ نے رحیم یار خان اور گجر خان میں ایس آئی یو ٹی دئیے ہیں جبکہ دوسری طرف پنجاب کے سارے ہسپتال آئوٹ سورس کر دئیے گئے ہیں،پی آئی سی سے مریض کو دھکے دیکر نکالا گیا،کوئی سرکاری ہسپتال چلا جائے تو پوڑی دیکر ٹال دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم کی نجکاری کر دی گئی کیا کسی وزیر کا بیٹا سرکاری سکول میں پڑھ سکتا ہے،دانش سکول بنا کر آپ بیوروکریٹ بنانے والے فیکٹری لگا رہے ہیں جبکہ جتنے بڑے بڑے صحافی یا دانشور ہیں وہ ٹاٹ یا مشنری سکولوں کے پڑھے ہوئے ہیں،آپ نے عوام سے کتب بینی کا حق چھین لیا ہے۔حسن مرتضیٰ نے کہا کہ کبھی کشمیر کو کشمور سے ملانا اور کبھی شہروں کو طبقات میں تقسیم کرنا مناسب نہیں۔

حسن مرتضیٰ نے کہا کہ لاہور کے علاقے شاہدرہ سے مرید کے اورنارنگ سے شیخوپورہ تک ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے اورجی ٹی روڈ کی آبادیوں کا اس سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔یہ سب بھیڑ نالے کا بند ٹوٹنے سے ہوا ہے،چند گھنٹوں کی بارش کے بعد ماڈل شہر لاہور جھیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ہمیں بتائیں ستھرا پنجاب پر فیصل آباد اور ٹوبہ کے سکینڈلز کا کیا بنا؟لاہور سب کا ہے،خوشی ہوتی ایسے منصوبے بناتے جس سے عام آدمی کی فلاح ہوتی۔حسن مرتضیٰ نے زور دیکر کہا کہ ہم یہاں کی بات کرتے ہیں آپ سندھ پر تیر برسانا شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے ملک میں آٹے اور گندم کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے کسان کی گندم خریدتے تو آج سوا کھرب روپے کی گندم امپورٹ نہ کرنا پڑتی،کاشتکار کی بات کریں تو آپ کو ہماری بات چھبتی ہے جسکی تین چار فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔

کسان اسکے باوجود کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈال رہا،2013میں صدر زرداری نے یہ فائدہ اپنے کسان کو پہنچایا۔میڈیا کے سوالات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں نواز شریف بڑے لیڈر ہیں آپ نے انہیں وزیر اعظم کشمیر بنانے کی بجائے ایک بورڈ کا چیئرمین بنا دیا۔ہر چیز کا حل اقتدار سے اٹھنا نہیں مگر ہمیں یہ اتحاد چلتا نظر نہیں آتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں حسن مرتضیٰ نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق بڑے سیاستدان ہیں،انہوں نے اب بڑی بڑی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں،انہوں نے بھی ثابت کیا کہ وہ ضیاء لالحق سوچ رکھنے والے پٹواری ہیں،خونی انقلاب کا کہنے والے یاد رکھیں اس کے بعد کسی نے محفوظ نہیں رہنا،یہ نسل،رنگ نہیں دیکھتا۔

سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے،اب صرف اسکی پاسداری کر لیں،بارڈر ریاست نے کھولنے تھے،آپ ثالث بنے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ہمارا پاسپورٹ 101نمبر پر آ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ رائیٹ آف انفارمیشن کے تحت پنجاب حکومت کے اعلان کردہ پراجیکٹس کی تفصیلات فراہم کی جائیں،پی اینڈ دی سے بھی پوری تفصیل مانگیں گے۔یہ دینے سے لیت و لعل سے کام لینگے تو لاہور ہائیکورٹ جائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں