بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) برکس ممالک کے رہنماؤں کی اٹھارہویں سربراہ کانفرنس 12 سے 13 ستمبر تک بھارت کے شہر نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔ اس سال برکس تعاون کے میکانزم کے قیام کی بیسویں سالگرہ ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں، اس تنظیم نے اپنی رکنیت کو بڑھانا اور تعاون کے شعبوں کو وسیع کرنا جاری رکھا ہے، جس سے گلوبل ساؤتھ ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔
2024 میں، برکس کی توسیع کے بعد پہلی سربراہ کانفرنس میں، چینی صدر شی جن پھنگ نے ایک اہم تقریر کی تھی ، جس میں “گریٹر برکس تعاون” کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی اور ا نہوں نےاس بات پر زور دیا تھا کہ برکس کو “گلوبل ساؤتھ ” کی یکجہتی اور تعاون کو فروغ دینے کا بنیادی ذریعہ اور عالمی حکمرانی کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی پیش رو قوت کے طور پر تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر “پرامن برکس”، “جدید برکس”، “سبز برکس”، “انصاف پر مبنی برکس” اور “ثقافتی برکس” کی تعمیر کریں۔اس کے ساتھ انہوں نے متعدد ٹھوس اقدامات کا اعلان کیا، جس نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اور مثبت جائزے کو جنم دیا۔
انڈونیشیا کے آزاد تھنک ٹینک کے ماہر ورڈیکا رضکی اوتاما کے خیال میں “گریٹر برکس تعاون” کم ترقی یافتہ ممالک کو خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے متنوع حل فراہم کر سکتا ہے، گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی اور آواز کو بڑھا سکتا ہے، اور ترقی کی بنیاد کو مزید مضبوط اور محرک کو زیادہ بھرپور بنا سکتا ہے۔








