کراچی (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی میں آٹے کی قیمت میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخ اور زمینی حقائق میں واضح فرق ہے، آٹا چکی مالکان نے حکومتی اعلانات مسترد کردیے ہیں اور کراچی میں آٹا 180 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے، جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے چکی آٹے کی قیمت 145 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، تاہم سرکاری نرخ پر آٹا دستیاب نہیں اور شہری 180 روپے فی کلو کے حساب سے آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 5 کلو آٹے کا تھیلا 900 روپے جبکہ 10 کلو کا تھیلا 1800 روپے تک فروخت ہورہا ہے، اس حساب سے 40 کلو آٹے کی قیمت 7200 روپے بنتی ہے جبکہ سرکاری نرخ کے مطابق یہی مقدار 5800 روپے میں دستیاب ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں رواں سال گندم کی بھرپور فصل ہوئی اور کسانوں سے 3500 روپے فی 40 کلو کے حساب سے گندم خریدنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ سندھ حکومت نے مالی سال 2025ـ26 کی گندم کے لیے 3500 روپے فی من امدادی قیمت مقرر کرتے ہوئے 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف رکھا، تاہم فصل آنے کے چند ماہ بعد ہی آٹے اور گندم کی قلت کا بحران پیدا ہوگیا۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے سوال اٹھایا کہ اگر سندھ میں گندم کی پیداوار اور دستیابی تسلی بخش تھی تو چند ماہ بعد ہی کراچی میں آٹا 180 روپے فی کلو کیوں فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم کی دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار ٹن بتائی گئی تھی، اس کے باوجود متوقع قلت 16 لاکھ 90 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے جبکہ قلت پوری کرنے کے لیے سندھ کابینہ کی جانب سے 5 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری حکومتی پالیسی اور منصوبہ بندی پر سوالیہ نشان ہے۔حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار ٹن گندم کا حساب نہیں مل رہا، حکومت بتائے کہ گندم کی اتنی بڑی مقدار کہاں گئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم کے ذخائر اور سپلائی چین کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور ذخیرہ اندوزی و مصنوعی قلت کے خدشات کو دور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت گندم اور آٹے کی قلت نہ ہونے کے دعوے کرتی ہے اور دوسری جانب بیرون ملک سے گندم درآمد کرنے کے فیصلے کیے جارہے ہیں۔ کسان سے 3500 روپے فی من گندم خریدنے کے باوجود عوام کو 7200 روپے فی من کے حساب سے آٹا خریدنا پڑ رہا ہے،
جس سے کسان اور صارف دونوں مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت گندم کے انتظام اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، حکومتی اعلانات محض اعلانات ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر سرکاری نرخ پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائے، گندم کے ذخائر کا مکمل حساب عوام کے سامنے لائے، مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرے۔









