چین 10

چین کی اشیاء کی درآمدات و برآمدات میں سال بہ سال 17.3 فیصد کا اضافہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی اشیاء کی درآمدات و برآمدات میں سال بہ سال 17.3 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ درآمدات میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ مسلسل پانچواں مہینہ ہے جب چین کی درآمدات کی شرحِ نمو برآمدات سے زیادہ ہے۔

آج چین نہ صرف عالمی منڈی میں ایک “سپر سیلر”ہے بلکہ ایک “سپر بائر” بھی بن چکا ہے۔ امریکی میڈیا یوریشیا ریویو کے مطابق، “چین کی درآمدات میں اضافہ عالمی تجارت کے مستقبل کو سہارا دے رہا ہے”۔ دیگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے بھی نشاندہی کی ہے کہ عالمی تجارت میں چین کا بڑھتا ہوا کردار عالمی اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم محرک بن چکا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں پیش گوئی کی ہے کہ 2026 میں عالمی تجارت کی شرحِ نمو 3.5 فیصد رہے گی، جو 2025 کے 5 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔ ایسے پس منظر میں بعض مغربی سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ نے نام نہاد “چائنا شاک 2.0” کے بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ چین کے مینوفیکچرنگ شعبے کی ترقی نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی صنعتی ترقی کے لیے دستیاب گنجائش کو محدود کر دیا ہے۔

تاہم یہ دعوے نہ صرف بنیادی حقائق سے متصادم ہیں بلکہ ان میں دوہرے معیارات اور بالادستی پر مبنی سوچ بھی نمایاں ہے، جس پر عالمی رائے عامہ کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔حقائق، مغرب کے ایسے گمراہ کن بیانیوں کا بہترین جواب ہیں۔ چین بیرونی دنیا کے لیے اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو مسلسل وسعت دے رہا ہے اور ایک “سپر بائر” کے طور پر اپنے کردار کو مزید بروئے کار لا رہا ہے، جس سے چین کی وسیع مارکیٹ دنیا بھر کے لیے ترقی کے ایک بڑے موقع میں تبدیل ہو رہی ہے۔

چین مسلسل 17 سال سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی منڈی رہا ہے اور اس نے 63 ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کی ہے۔ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کے 150 سے زائد تجارتی شراکت داروں سے درآمدات میں مثبت نمو ریکارڈ کی گئی۔ سال کے آغاز سے اب تک اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک 40 سے زائد “چین کو برآمد” نامی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جن کے ذریعے تقریباً 100 ممالک کی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کو چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔

رواں سال یکم مئی سے چین نے ان 53 افریقی ممالک کے لیے زیرو ٹیرف کے اقدامات نافذ کیے ہیں جن کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ رواں سال مئی اور جون میں افریقہ سے چین کی درآمدات 193.8 بلین یوآن تک پہنچ گئیں، جو کہ سال بہ سال 23.5 فیصد زیادہ ہیں۔ متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق، چین اپنی وسیع مارکیٹ کی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی تجارت کی ترقی کے لیے ایک مضبوط قوت محرکہ فراہم کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں